نورستان (پاک ٹوڈے): نورستان کے پولیس سربراہ مولوی اختر محمد مزمل نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع کامدیش میں 4 روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران 40 مسلح افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد گرفتار ہوئے۔
طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مولوی اختر محمد مزمل نے دعویٰ کیا کہ 300 سے زائد مسلح افراد چترال کی جانب سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے کامدیش کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ افراد پاکستانی افواج کی مدد سے آئے تھے اور مبینہ طور پر نورستان کے بعض علاقوں میں بدامنی پھیلانا چاہتے تھے۔
پولیس چیف کے مطابق جھڑپیں سرحدی باڑ سے تقریباً 100 سے 500 میٹر کے فاصلے پر شروع ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جھڑپوں کے دوران کچھ افراد مارے گئے جبکہ دیگر فرار ہوگئے، تاہم 40 مسلح افراد ہلاک اور 60 سے زائد گرفتار ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے پہلے ہی گھات لگا رکھی تھی۔
مولوی اختر محمد مزمل کے مطابق علاقہ اب سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے، لڑائی ختم ہوچکی ہے جبکہ کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کچھ پاکستانی اہلکار بھی مسلح افراد کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوئے تھے، جو افغان فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد سرحد کے دوسری جانب واپس چلے گئے۔
عسکری امور کے تجزیہ کار سرور نیازی نے بھی گفتگو میں پاکستانی حکومت اور فوج پر طالبان مخالف قوتوں کو منظم کرکے افغانستان میں بدامنی کے لیے بھیجنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں اور مذاکرات و افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
چار روز بعد کامدیش میں جھڑپیں ختم ہوگئی ہیں، تاہم ضلع کے بعض علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ضرورت پڑنے پر سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔