دوحہ (پاک ٹوڈے): قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ کیا گیا وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ غزہ میں ہونے والی کارروائیوں کے ذمہ دار افراد جنگی مجرم ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا کہ غزہ میں اسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا اور کسی بھی جواز یا دلیل کے ذریعے ان کارروائیوں کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، تاہم ان کے مطابق اسرائیل کا ردعمل قابل جواز نہیں تھا۔
قطری وزیراعظم نے اسرائیلی حکومت پر قطر کے خلاف سیاسی مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اس کا مقصد غزہ میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق توجہ ہٹانا ہے۔
انہوں نے قطر پر 2025 میں اسرائیلی حملے کا بھی ذکر کیا، جس میں دوحہ میں حماس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ شیخ محمد کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب قطر جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود قطر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران و خلیجی ممالک کے درمیان علاقائی سیکیورٹی کے معاملات پر توجہ دینا ضروری ہے۔