راولپنڈی (پاک ٹوڈے): پنجاب حکومت نے حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے لیے 3 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کیس میں مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجا جا چکا ہے۔
پولیس کو فرانزک اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہوگئی ہیں، جن میں تشدد کے نشانات اور دیگر شواہد سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں گھریلو ملازم کے کردار سے متعلق بھی اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔
کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل چٹھہ، ڈی آئی جی لاہور شعیب خرم جنجوعہ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی سیف اللہ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے اور اس کی سربراہی سہیل چٹھہ کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اسی ہفتے راولپنڈی پہنچے گی، جائے وقوعہ کا دورہ کرے گی اور اب تک ہونے والی پولیس تحقیقات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی نے مقتولہ کے اہل خانہ سے بھی رابطہ کیا ہے۔ مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم اور پولیس رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی لاش 21 اگست کو ان کے اپارٹمنٹ کے واش روم سے ملی تھی۔ جسم پر تشدد کے آثار موجود تھے، جن میں گردن پر گلا دبانے کا نشان، دائیں ہونٹ کے نیچے چوٹ اور ناک سے خون بہنا شامل تھا۔ پولیس کے مطابق لاش شاور سے جزوی طور پر لٹکی ہوئی تھی، ہاتھ پیچھے بندھے تھے اور گلے میں تار کا پھندا تھا۔
45 سالہ حنا جاوید نے 9 ماہ قبل فیصل امام سے شادی کی تھی اور وہ ان کی دوسری بیوی تھیں۔ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی درخواست پر شوہر فیصل امام اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، جبکہ 78 سالہ سسر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے پہلے ہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ مقتولہ کے اہل خانہ نے پارلیمانی کاکس کمیٹی اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو خطوط لکھ کر راولپنڈی پولیس کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔