اسلام آباد / کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں جاری تشدد کے واقعات کے اثرات سرحدی حد بندیوں کو عبور کر گئے ہیں۔ تاجکستان نے افغانستان کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی اور گولہ باری سے اپنے ملک میں ایک حاملہ خاتون کی ہلاکت پر کابل حکومت سے سخت ڈپلومیٹک احتجاج کیا ہے، جس کے جواب میں طالبان نے واقعے کو شریر عناصر کی کارروائی قرار دیتے ہوئے غم کا اظہار کیا ہے۔
تاجکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے افغان حکام کو ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کیا گیا تھا، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ افغان علاقے میں جاری لڑائی کے دوران تاجکستانی حدود میں فضائی مداخلت کی گئی اور گولہ باری سے سرحد پار ‘درواز’ کے علاقے میں رہائشی مکانات تباہ ہوئے، جبکہ ایک تاجک حاملہ خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ دوشنبہ نے افغان حکومت سے سرحدوں کے احترام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے معاملے کی باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تاجکستان حکومت کے احتجاج پر رد عمل دیتے ہوئے افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان اور تاجک حکومت سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حادثہ کچھ "شرپسند اور موقع پرست” عناصر کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور اعتماد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغان صوبے بدخشان کے ضلع ‘نُسی’ میں طالبان فورسز اور سابق مقامی طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کے حامیوں کے درمیان شدید مسلح تصادم جاری ہے۔ اس پیش قدمی کے دوران افغان ہیلی کاپٹروں نے ‘جیسنگ’ کے مقام پر مخالف جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی، جبکہ کارروائی کو تقویت دینے کے لیے کندوز، بلخ اور کابل سے اضافی فورسز بھیج دی گئی ہیں۔