اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی وجہ ایک شخص کی جانب سے افغانستان سے مبینہ طور پر ڈکٹیشن لینا تھا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک غیر سنجیدہ شخص نے صوبائی حکومت کو نقصان پہنچایا۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ مذاکرات اس لیے سبوتاژ ہوئے کیونکہ ایک شخص افغانستان سے ڈکٹیشن لے رہا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سہیل آفریدی نے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزید الزام عائد کیا کہ خوف کے باعث دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کی گئی۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مذاکرات جاری رکھنے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے بلاول بھٹو زرداری کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے۔