اسلام آباد (پاک ٹوڈے): قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق حکومتی قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور کر لی ہے، جبکہ ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری کے لیے اب سینیٹ کا مرحلہ باقی ہے۔
قومی اسمبلی میں ایمرجنسی کے معاملے پر بحث کے باعث وقفہ سوالات معطل رہا۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے اس حوالے سے تحریک پیش کی، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا۔
قومی اسمبلی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق ایوان نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت صدر مملکت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دے دی۔
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کو مقررہ مدت کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانا ضروری ہے۔
دوسری جانب آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے اعلان کا معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس کی مدت میں توسیع کے لیے بھی آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
قومی اسمبلی میں حکومتی وزراء نے ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی خیبر پختونخوا کی صورتحال کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو قرار دیا اور اسے پارٹی کے لیے ’’سیاسی خودکش حملہ‘‘ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ مذاکرات بحال کیے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جائیں۔