یروشلم/تل ابیب (پاک ٹوڈے): اسرائیلی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بتسلئیل سموٹریچ نے ایک بار پھر متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر کامل ملٹری و سیکیورٹی قبضہ قائم کر کے وہاں یہودیوں کو آباد کرنا چاہیے۔
اپنے حالیہ بیان میں سموٹریچ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اسرائیل کے لیے اپنا "مشن مکمل” کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے بقول اس مشن کو پورا کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ غزہ کا مکمل انتظامی و سیکیورٹی کنٹرول سنبھالا جائے، وہاں کی تمام تر ذمہ داریاں خود لی جائیں اور یہودی بستیاں قائم کی جائیں۔
اسرائیلی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ غزہ کو مکمل طور پر اسرائیل کی تحویل میں لیے بغیر اس بات کو یقینی بنانا ناممکن ہے کہ یہ علاقہ مستقبل میں اسرائیلی شہریوں کے لیے سیکیورٹی خطرہ نہیں بنے گا۔
بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسلامی و عرب ممالک کی جانب سے سموٹریچ کے اس بیان خاموشی انتہائی افسوسناک ہے، کیونکہ اس طرح کے مطالبات خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے اور جنگ بندی کی عالمی کوششوں کو ناکام بنانے کا سبب بن سکتے ہیں اور یہ فلسطینیوں کو جینے کے حق سے محروم کرنے کے اسرائیلی ارادوں کا اظہار ہے۔