پاکستانی فوج کے الزامات مسترد، افغانستان کو غیر ملکی جنگجوؤں کو بلانے کی ضرورت نہیں، افغان حکومت

کابل (پاک ٹوڈے): افغان حکومت نے پاکستانی فوج کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ گزشتہ ہفتے قندھار میں پاکستان مخالف گروہوں کے نمائندوں کا اجلاس ہوا تھا۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان کو غیر ملکی جنگجوؤں کو دعوت دینے یا ان کے ساتھ اجلاس کرنے کی ضرورت نہیں۔

قندھار کی صوبائی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قندھار میں پاکستان مخالف گروہوں کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ بیان میں پاکستانی فوجی حلقوں پر الزام عائد کیا گیا کہ ایسے دعوؤں کے ذریعے افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں اور دیگر کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ ردعمل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے قندھار کے گورنر ملا محمد شیرین اخوند کا نام لیتے ہوئے 26 اگست کو ہونے والے ایک مبینہ اجلاس کا ذکر کیا تھا۔

احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ اجلاس میں القاعدہ، بشیر زیب، حافظ گل بہادر اور افغان طالبان کے نمائندے شریک تھے۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان کے حق میں مزید تفصیلات یا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے افغانستان میں مبینہ طور پر موجود پاکستان مخالف گروہوں کے ٹھکانوں اور ان کے خلاف ممکنہ کارروائیوں سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ افغان طالبان حکومت کے حوالے سے کیا اور کب کرنا ہے، اس کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا۔

بشیر زیب کو بلوچ لبریشن آرمی کا کمانڈر جبکہ حافظ گل بہادر کو تحریک طالبان پاکستان سے الگ ایک دھڑے کا سربراہ ہے۔ پاکستانی حکام دونوں پر افغانستان میں موجودگی اور دیگر روابط کے حوالے سے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

قندھار کے گورنر ملا محمد شیرین اخوند 2024 میں طالبان حکومت کے اس وفد کی قیادت بھی کرچکے ہیں جس نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مذاکرات کیے تھے، تاہم ان مذاکرات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔

دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان اس سے قبل پاکستان پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے داخلی سیاسی مسائل اور سیکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے افغانستان پر حملوں کا معاملہ استعمال کر رہا ہے۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب سرحد پار حملوں اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔ فریقین کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

Related posts

کنڑ اور ہلمند میں پاکستانی فضائی حملوں کی مذمت، حامد کرزئی کا افغان خودمختاری کے دفاع پر زور

کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دینے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے، محمد بن سلمان

ہلمند اور کنڑ میں پاکستانی فضائی حملوں کا دعویٰ، 9 خواتین اور بچے جاں بحق