میرعلی (پاک ٹوڈے): شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے گاؤں زیرکی اور گردونواح میں منگل کی صبح سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے علاقے کو گھیرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا ہے۔ آپریشن کے دوران علاقے کی فضا میں ہیلی کاپٹرز کی پروازیں دیکھی گئی ہیں، جبکہ وقتاً فوقتاً فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی جا رہی ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کے باعث میرعلی اور میرانشاہ کو ملانے والی مرکزی شاہراہ سمیت رزمک اور ایشا جانے والے راستے آمدورفت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہے۔
مقامی باشندوں اور قبائلی عمائدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں بعض عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ عمائدین نے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر چند گھنٹوں کے لیے راستے کھولے جائیں تاکہ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں تک منتقل کیا جا سکے اور متاثرہ خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔
دوسری جانب، اس آپریشن کے باقاعدہ مقاصد، ممکنہ گرفتاریوں یا جانی و مالی نقصان کے حوالے سے متعلقہ حکام یا عسکری حکام کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔