پشاور: مرکزی ملزم کو سزائے موت، شریک ملزم اشتہاری قرار

پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور کی مقامی عدالت نے پیسے نہ دینے پر اپنی ہی والدہ کو قتل کرنے کے سنگین جرم میں ملوث مرکزی ملزم کو سزائے موت کا حکم سنا دیا، جبکہ کیس میں نامزد روپوش شریک ملزم کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

​کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج رفیع اللہ نے کی۔ سماعت کے دوران پراسیکیوشن اور صفائی کے وکلا کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔ فاضل جج نے دلائل مکمل ہونے اور جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم امتیاز کو سزائے موت کی سزا سنائی۔

​واقعے کا پس منظر:

پراسیکیوشن کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ یکم اگست 2023 کو پشاور کے تھانہ انقلاب کی حدود میں پیش آیا تھا۔ ملزم امتیاز نے اپنی والدہ سے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا، اور انکار پر اپنے ساتھی طاہر کے ساتھ مل کر تیز دھار چھریوں کے وار کر کے والدہ کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

​شریک ملزم کیخلاف کارروائی:

عدالت نے کیس کے نامزد دوسرے ملزم طاہر کے مسلسل روپوش رہنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر اشتہاری قرار دے دیا ہے اور پولیس کو ملزم کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کرتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا ہے۔

Related posts

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس، وفاقی آئینی عدالت کے اہم سوالات

قلعہ عبداللہ: اغوا کیے گئے 5 پنجابی مزدور قبائلی جرگے کی مداخلت پر بازیاب

افغان ڈاکٹر کی پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ جاری رکھنے کی راہ ہموار