اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پیکٹوٹل میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کے شعبہ نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسپتال انتظامیہ کے ناکافی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کے عدم وجود کو قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی تیار کردہ یہ رپورٹ ‘پاک ٹوڈے’ نے حاصل کر لی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، نرسری کے کمرے میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ آئیر کنڈیشنر (اے سی) نمبر 2 کی برقی سپلائی کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی (شارٹ سرکٹ) کو قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ حادثے میں کسی قسم کی تخریب کاری، آئیسکو (آئی ایس سی او) کی جانب سے برقی فالٹ، یا انکیوبیٹر و آکسیجن سلنڈر کی لیکیج کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ آتشزدگی کے وقت نرسری میں گنجائش سے زائد بچے موجود تھے۔ 10 بیڈز پر مشتمل اس یونٹ میں 15 نومولود زیر علاج تھے، جن میں سے 14 بچے اس المناک حادثے کی نذر ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی اموات محض سیکیورٹی سسٹم کی ناکامی سے نہیں بلکہ انتظامیہ کے متعدد ناقص اور غیر متوازن اقدامات کے باعث ہوئیں۔
انکوائری کمیٹی نے جہاں فرنٹ لائن عملے (نرسنگ اور طبی عملے) کی جانب سے ابتدائی لمحات میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور کسی شخص کے خلاف براہ راست مجرمانہ فعل کے شواہد کو مسترد کیا، وہیں اسپتال کے اسٹرکچرل سیفٹی سسٹم پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نرسری میں جدید فائر ڈٹیکشن، روایتی دھویں کا پتا لگانے والے سینسرز اور خودکار الارم کا کوئی موثر نظام موجود نہیں تھا۔ مزید برآں، رواں برس 6 جولائی کو نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد جاری کی جانے والی فائر سیفٹی وارننگز اور ہدایات پر بھی پمز انتظامیہ نے کوئی عملدرآمد نہیں کیا تھا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سانحے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد درج ذیل اہم اقدامات کی سفارش کی ہے:
تفصیلی تحقیقات: برقی تنصیبات، ہنگامی خروج کے راستوں (Emergency Exits) اور وارننگ سسٹمز کی عدم موجودگی پر مزید قانونی اور انتظامی تحقیقات کی جائیں۔
پمز اسپتال کے تمام شعبہ جات کا ہنگامی بنیادوں پر الیکٹریکل، فائر اور لائف سیفٹی آڈٹ کروایا جائے۔
نومولود اور شدید بیمار بچوں کو ہنگامی حالت میں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے خصوصی ‘ایویکیوایشن ایس او پیز’ ترتیب دیے جائیں۔
تمام وارڈز بالخصوص نرسری میں سمارٹ فائر ڈٹیکشن، الارم اور ہنگامی خروج کے راستوں کو فوری طور پر فعال بنایا جائے۔
واضح رہے کہ اس افسوسناک حادثے میں محفوظ رہ جانے والی واحد بچی شدید جھلس جانے کے باعث اس وقت بھی انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہے۔