صنعا/ریاض (پاک ٹوڈے): شام نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائی میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز کی مدد کے لیے اپنی فوجی دستے بھیجنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے تین امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب اور شام کے درمیان یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شامی فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی پر بات چیت جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق شامی صدر احمد الشرع اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے تاحال شامی فوج کو یمن بھیجنے کی حتمی منظوری نہیں دی۔
امریکی حکام کے مطابق اس معاملے پر زیادہ تر بات چیت سعودی عرب اور شام کے درمیان ہو رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ امریکی حکومت نے اصولی طور پر شامی فوج کی ممکنہ تعیناتی کی مخالفت نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس کارروائی کا ایک اہم مقصد بحیرہ احمر کے قریب اہم علاقوں اور تزویراتی آبنائے باب المندب سمیت حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔
Axios کے مطابق سعودی عرب چاہتا ہے کہ شامی فوج یمن میں تعینات کی جائے تاکہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی فورسز کو مزید تقویت دی جا سکے۔
رپورٹ میں مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شام ممکنہ طور پر 10 ہزار سے 20 ہزار فوجی اہلکار یمن بھیج سکتا ہے۔ زیرِ غور فوجی یونٹس میں دمشق کے قریب تعینات 90ویں ڈویژن اور جنوبی شام میں السویداء کے قریب موجود 84ویں ڈویژن شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ سے بھی شامی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے طریقۂ کار پر مشاورت کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کا خیال ہے کہ شامی فوج کی ممکنہ تعیناتی سے امریکا کو براہِ راست فوجی مداخلت کے بغیر سعودی حمایت یافتہ حوثی مخالف کارروائی کو تقویت دینے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اس سے سعودی عرب اور شام کے درمیان دفاعی و عسکری تعاون بھی مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ ساتھ سعودی سفارتخانے اور شامی وزارت خارجہ نے بھی اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ شامی فوج کی یمن میں تعیناتی کا فیصلہ تاحال حتمی نہیں ہوا اور 10 ہزار سے 20 ہزار اہلکاروں کی تعداد بھی فی الحال زیرِ غور تجویز ہے، حتمی تعیناتی نہیں۔