کراچی (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ صوبے کی رضامندی کے بغیر صوبائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش غیر آئینی اور ناقابلِ قبول ہوگی۔
قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر گورنر سندھ نہال ہاشمی کے ہمراہ مزارِ قائد پر حاضری اور پھول چڑھانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی سندھ کی تقسیم سے متعلق کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو سندھ حکومت اسے پہلے ہی مسترد کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی صرف آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے توثیق ضروری ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کی مرضی کے بغیر سندھ کی تقسیم مسلط نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے سندھ اسمبلی سے منظور شدہ قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے پہلے ہی اپنے ارادے کا اظہار کر چکے ہیں۔
صوبائی وسائل اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبائی وسائل پر قبضہ کرنے یا ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے وفاق کے ساتھ ایک یادداشت (MoU) پر دستخط کیے تھے۔
مراد علی شاہ کے مطابق اس یادداشت میں واضح طور پر درج تھا کہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔