سابقہ خاصہ دار فورس کا منگل سے ایف آئی آر، روزنامچہ اور ڈی پی اوز کے احکامات ماننے سے انکار

جمرود (پاک ٹوڈے): ضلع خیبر کے تاریخی بابِ خیبر کے مقام پر حقوق کے حصول کے لیے آل فاٹا سابقہ خاصہ دار فورس کمیٹی کا احتجاجی دھرنا 16 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے 22 نکاتی مطالبات کے حق میں احتجاج کی شدت بڑھاتے ہوئے کل منگل کی صبح سے تمام قبائلی اضلاع میں پولیس کا روزنامچہ، ایف آئی آر درج کرنے اور ڈی پی اوز کے احکامات پر عمل درآمد مکمل معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر نے مطالبہ کیا کہ ڈی پی اوز اور ایس پی انویسٹی گیشن کے علاوہ قبائلی اضلاع سے باہر سے تعینات کیے گئے تمام ایس پیز، دیگر پولیس افسران اور ایم ٹی اوز رضاکارانہ طور پر واپس اپنے علاقوں کو چلے جائیں۔ انہوں نے سخت خبردار کیا کہ اگر کسی اہلکار نے منگل سے ایف آئی آر درج کی، روزنامچہ چلایا یا ڈی پی اوز کے احکامات ماننے کی کوشش کی تو کمیٹی اس کے خلاف متفقہ طور پر سخت اقدام کرے گی۔

تاہم، کمیٹی نے یہ وضاحت کی کہ سابقہ خاصہ دار اور پولیس اہلکار امن و امان کی خاطر پاک فوج اور ایف سی کے ساتھ مل کر مشترکہ چیک پوسٹوں پر اپنی ڈیوٹیاں حسبِ معمول انجام دیتے رہیں گے۔

سید جلال وزیر نے مزید کہا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اگلے مرحلے میں کوہاٹ ٹنل کو بند کر کے ٹریفک معطل کی جائے گی، جبکہ اس کے بعد بھی پیش رفت نہ ہوئی تو قبائلی اضلاع کے 28 ہزار اہلکاروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا اور وزیر داخلہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔

کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف سے اپیل کی ہے کہ سابقہ فاٹا کی خاصہ دار فورس کو صوبائی پولیس کی طرز پر انفراسٹرکچر کی فراہمی، ترقیاں، پنشن اور فورس کے مکمل انضمام کے 22 نکاتی اجنڈے پر فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کریں۔

Related posts

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فائر سیفٹی قوانین کے متعلق سیکرٹری داخلہ اور سی ڈی اے حکام سے جواب طلب

بنوں: دن پہلے پولیس کی جانب سے لاپتہ کئے گئے بصيرالحق کی تشدد زدہ لاش برآمد

مانسہرہ: ‘موسیٰ کا مصلیٰ’ کی چوٹی سے واپسی پر آئرش سیاح لاپتا، سرچ آپریشن جاری