اسلام آباد ہائیکورٹ کا فائر سیفٹی قوانین کے متعلق سیکرٹری داخلہ اور سی ڈی اے حکام سے جواب طلب

اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست پر وفاقی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر پر مشتمل سنگل بینچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، چیف کمشنر اسلام آباد اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

​سماعت کے دوران درخواست گزار نوید عاشق کی جانب سے ایڈووکیٹ افراسیاب عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ کونسل نے موقف اختیار کیا کہ پبلک سیکٹر کے سب سے بڑے طبی مرکز پمز میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے دوران شیر خوار بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس بڑے اسپتال کے پاس بھی فائر ڈیپارٹمنٹ کی باقاعدہ این او سی موجود نہیں ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دارالحکومت کی بیشتر تجارتی، تعلیمی اور طبی عمارتیں این او سی کے بغیر ہی کام کر رہی ہیں، جبکہ ان ساختوں میں فائر الارم، فائر فائٹنگ آلات اور ہنگامی انخلا کے راستے تک غائب ہیں جو شہریوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

​درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دارالحکومت کی تمام نجی و سرکاری عمارتوں کا فوری طور پر تھرڈ پارٹی فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔ اس کے علاوہ فائر ڈیپارٹمنٹ کی این او سی کے بغیر اور غیر محفوظ طریقہ کار سے فعال عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا جائے اور غیر قانونی ساختوں کی نگرانی کے لیے انتظامی سطح پر ایک مستقل اور مؤثر انسپکشن میکانزم قائم کیا جائے۔

Related posts

باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنما ملک اکرام جاں بحق

خاران میں رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ مبینہ طور پر اغوا

سہیل آفریدی تاحال حراست میں اور پشاور میں موجود ہیں، بیرسٹر گوہر