اسلام آباد (پاک ٹوڈے): آزاد میڈیا کی نگرانی کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بنیادی حقوق محدود کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت سمیت عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
تنظیم کی جانب سے جمعرات، 15 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں کہا گیا کہ صوبے میں غیر معمولی آئینی اور انتظامی اقدامات کے باوجود آئینی تحفظات، جمہوری احتساب اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ غیر معمولی حالات کو آزاد صحافت پر قدغن لگانے، اختلافِ رائے دبانے یا عوام کو اہم معلومات سے محروم کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں براہِ راست حکومتی کنٹرول اور ایمرجنسی نافذ کی، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی غیر مؤثر ہوگئیں۔
تنظیم نے زور دیا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے تحت کیے جانے والے اقدامات، حکومتی فیصلوں اور شہریوں پر ان کے اثرات کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کا موقع ملنا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ سیاسی بے یقینی اور سکیورٹی خدشات کے ماحول میں آزاد صحافت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عوام کو بروقت، درست اور تصدیق شدہ معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔
فریڈم نیٹ ورک نے واضح کیا کہ بنیادی حقوق حکومت کی صوابدید پر دی جانے یا واپس لی جانے والی مراعات نہیں، بلکہ شہریوں کے آئینی حقوق ہیں۔ تنظیم نے وفاقی اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کی کوریج، انٹرنیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل رابطوں اور معلومات کی ترسیل پر عمومی یا امتیازی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا جائے۔
بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری حکام پر بھی زور دیا گیا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران دھمکیوں، ہراسانی، من مانی حراست، تشدد یا انتقامی کارروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تنظیم نے ایمرجنسی کے تحت کیے جانے والے فیصلوں میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پابندی کی قانونی بنیاد، دائرۂ کار اور مدت کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ اس کے مطابق ہر پابندی آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے اور اسے ضرورت سے زیادہ وسیع نہیں کیا جانا چاہیے۔
فریڈم نیٹ ورک نے کہا کہ عوام کے جاننے کا حق جمہوری نظام کے مؤثر کردار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آزاد میڈیا شہریوں کو حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے، اختیارات کے استعمال کی نگرانی کرنے اور سرکاری اداروں کو جواب دہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
تنظیم نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ آئین کی بالادستی، آزادیٔ صحافت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرے، جبکہ سیاسی فریقین کو اپنے اختلافات جمہوری اور آئینی طریقوں سے حل کرنے کی اپیل کی۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق شہری آزادیوں کو نقصان پہنچا کر خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور استحکام یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ تنظیم نے کہا کہ بنیادی حقوق کا تحفظ، صحافیوں کی سلامتی اور آزاد میڈیا کا تسلسل عوامی اعتماد، جمہوری استقامت اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہیں۔