اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دریاۓ اباسین (سندھ) کے مغربی علاقوں میں حکومتی عملداری انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لکی مروت، بنوں، ٹانک، کرم اور اورکزئی جیسے اضلاع میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، جہاں پولیس کمانڈ کو بھی کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ہنگو کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے متعدد پولیس اہلکاروں کو گھیراؤ میں لے لیا تھا، جنہیں بعد ازاں علاقے کے مقامی علماء کی ثالثی کے بعد رہا کرایا گیا۔
سربراہ جے یو آئی نے بلوچستان کی سیکیورٹی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی تمام تر توجہ صرف شہروں اور سرکاری مراکز کو تحفظ فراہم کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جبکہ دور دراز کے علاقے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
مولانہ فضل الرحمان نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور زمینی حقائق کا خود جائزہ لے کر برائے راست رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔
