پشاور (پاک ٹوڈے): مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی نیشنل ایکشن پلان کے بعد خیبرپختونخوا کا اپنا صوبائی ایکشن پلان موجود ہے اور وزیراعلیٰ کسی صورت نیشنل ایکشن پلان کی سربراہی نہیں کرتے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ عطاء اللہ تارڑ کو بنیادی معلومات اور حقائق سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے اور قومی میڈیا پر بیان دینے سے قبل انہیں اپنے حقائق درست کرلینے چاہئیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ کا تقریباً 10 فیصد سیکیورٹی کے لیے مختص ہے، جو ان کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 سال کے دوران صوبے کا سیکیورٹی بجٹ 65 ارب روپے سے بڑھ کر 190 ارب روپے ہوگیا ہے۔
مشیر خزانہ کے مطابق خیبرپختونخوا سیکیورٹی کے لیے سب سے زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں 2024،25 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ پولیس کا آپریشنل بجٹ بھی 2 سال کے دوران 15.1 ارب روپے سے بڑھ کر 30.2 ارب روپے ہوگیا ہے۔ 22 ستمبر تک موجودہ بجٹ سے 137.8 ارب روپے، یعنی 79.2 فیصد فنڈز جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کے 97.4 فیصد فنڈز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔
ان کے مطابق پولیس کے آلات، گاڑیوں اور مشینری پر اخراجات 3.3 ارب روپے سے بڑھ کر 14.5 ارب روپے ہوگئے ہیں۔ 2024،25 کے بعد پولیس میں 3,050 نئی آسامیوں کی منظوری دی گئی، جس کے بعد منظور شدہ نفری 136,268 سے بڑھ کر 139,318 ہوگئی ہے۔
مزمل اسلم نے مزید بتایا کہ جولائی 2026 سے پولیس اہلکاروں کے رسک الاؤنس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔