اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اہم اجلاس کے بعد مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد پارلیمان میں اپوزیشن کا موثر اور فعال کردار ادا کرنا اور قومی مسائل پر یکجا آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کی بگرتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو صوبے اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں اور حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، جبکہ متعدد سیکیورٹی آپریشنز کے باوجود کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غلط حکمتِ عملی کے باعث پاکستان خارجہ سطح پر تنہا اور محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایک ہاتھ قوم کو تھپڑ مار رہا ہے اور ایسے میں بات چیت ممکن نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی، جبکہ 27 ستمبر کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔