جنوبی وزیرستان لوئر اور اپر میں آج کرفیو، صبح 6 سے شام 7 بجے تک نقل و حرکت پر پابندی

وانا (پاک ٹوڈے): جنوبی وزیرستان لوئر اور اپر کی ضلعی انتظامیہ نے آج 10 اکتوبر کو دفعہ 144 کے تحت مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پابندیوں کے دوران مخصوص علاقوں میں آمدورفت، ٹریفک اور تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق تحصیل وانا، وانا بازار اور وانا بائی پاس میں صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔ وانا، تیارزہ گیٹ، کرب کوٹ، تنائی اور عزیز آباد چوک سے درگئی پل تک، جبکہ گل کچ سے توئی خلہ اور تنزی تک ہر قسم کی ٹریفک، مسافر و مال بردار گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی اجازت سے مخصوص استثنیٰ حاصل کیا جا سکے گا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر عرفان علی کے حکم نامے کے مطابق سب ڈویژنز سرواکئی اور لدھا میں بھی صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک بازار اور مارکیٹیں بند رہیں گی، جبکہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوں گی۔ پابندیوں میں لدھا، مکین، تبئی سر، بی بی آر، سراروغہ، کوٹکئی، سپینکئی رغزئی، نذر خیل، درگئی برج، مدیجان، شین ورسک، ملائے خان سرائے، چگملائی اور جنڈولہ سمیت مختلف علاقے اور راستے شامل ہیں۔ سرواکئی سے ملائے خان سرائے اور بروند، جبکہ اسمان منزہ سے شیروانگی اور تور وام تک کے راستے بھی متاثر ہوں گے۔

انتظامیہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہنگامی خدمات کو پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ دیگر افراد کو ہنگامی ضرورت کے تحت نقل و حرکت کے لیے پولیس یا سیکیورٹی فورسز سے اجازت لینا اور شناختی کارڈ یا گاڑی کے کاغذات پیش کرنا ہوں گے۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں گاڑی کو 50 میٹر پہلے روکنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

حکم ناموں کے مطابق پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کرفیو کے اوقات میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

Related posts

پشاور میں پی ٹی آئی رہنما نعمت اللہ مہمند گھر سے اغوا

لوئر دیر میں پی ٹی آئی ایم پی اے محمد اعظم خان کے گھر پر چھاپہ، اغوا کیے جانے کی اطلاعات

پشاور میں موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس بحال، شہریوں کی مشکلات کم ہونے لگیں