باکو (پاک ٹوڈے): آذربائیجان میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لیے لباس سے متعلق نیا ضابطہ نافذ کیے جانے کے بعد مذہبی آزادی اور حجاب پہننے والی معلمات کے ملازمت کے حقوق سے متعلق بحث شروع ہوگئی ہے۔
نئے ضابطۂ لباس کے تحت اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے لباس اور لوازمات میں سیکولر اصولوں کی پابندی کریں۔ اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، خصوصاً حجاب پہننے والی خواتین اساتذہ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آذربائیجان کے مختلف شہروں میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات کا مرکز مذہبی آزادی اور تعلیمی اداروں میں لباس سے متعلق پابندیوں کے اثرات ہیں۔
اس سے چند ہفتے قبل بھی بعض اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو کلاسوں میں شرکت سے روکنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس کے معاملے پر بحث مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔