جرمنی کا بون میں روسی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان

برلن / ماسکو (پاک ٹوڈے): جرمنی اور روس کے درمیان سفارتی اور سیکیورٹی کشیدگی انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ جرمن حکومت نے گزشتہ ماہ لیپزگ ہالے ایئرپورٹ پر بارود سے لیس ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی تخریب کاری کی کوشش کا ذمہ دار روس کو قرار دیتے ہوئے بون میں قائم روسی قونصل خانے کو 18 ستمبر سے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرائنٹ نے برلن میں پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ لیپزگ ایئرپورٹ پر یوکرینی کارگو طیارے کے قریب ملنے والے دھماکہ خیز ڈرون کے فرانزک جائزے اور انٹیلی جنس معلومات نے ثابت کیا ہے کہ یہ واقعہ روسی ہائبرڈ آپریشنز اور غیر روایتی جنگ کا حصہ ہے۔ واقعے پر روسی سفیر سرگئی نچائیف کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ یوہان وڈے فُل نے روس کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بون میں روسی قونصل خانے کی بندش کے ساتھ ساتھ برلن میں قائم ‘رشین ہاؤس’ کا آپریٹنگ معاہدہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ روسی شہریوں کے داخلے کے لیے مزید سخت شرائط عائد کی جا رہی ہیں جبکہ مغربی پابندیوں سے بچ کر تیل کی تجارت کرنے والے روس کے نام نہاد ‘شیڈو فلیٹ’ کے خلاف بھی معاشی گھیراؤ تنگ کیا جائے گا۔

دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جرمن الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ جرمنی کے ان جوابی اقدامات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے یوکرین کو مسلسل عسکری امداد دینے کا حوالہ دیتے ہوئے برلن پر الٹا دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ 4 اگست کو لیپزگ کے اہم ترین ملٹری و لاجسٹک ایئرپورٹ کے سیکیورٹی زون میں بارود سے لیس ڈرون ملا تھا جس کا ڈیٹونیٹر تکنیکی خرابی کے باعث پھٹ نہ سکا۔ اس ایئرپورٹ کو نیٹو اور جرمن فوج یوکرین کے لیے عسکری سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کے باعث جرمن حکومت اسے یورپی سرحدوں کے اندر روسی تخریب کاری کا ایک خطرناک مرحلہ قرار دے رہی ہے۔

Related posts

نیدرلینڈز نے امریکا اور کینیڈا سے 86 ٹن سونا برطانیہ منتقل کر دیا

امریکی امریکی عدالت کا افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کو زبردستی خوراک اور طبی علاج فراہم کرنے کا حکم

امریکی سیکرٹری آف دی آرمی ڈان ڈرسکول کا اپنے عہدے سے استعفا، تنازع کی خبریں گرم