اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جیواسٹریٹجک کشیدگی کے منفی اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں یکلخت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی تجارتی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 96 ڈالر 54 سینٹ جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 91 ڈالر 71 سینٹ فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ ‘مربن’ خام تیل کی قیمت میں دیکھا گیا جو 7 ڈالر کے نمایاں اضافے کے ساتھ 106 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خدشات نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کرنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں جس سے انرجی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں ہونے والی اس تیزی کے اثرات مقامی سطح پر بھی منتقل ہو رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے 2 ستمبر کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
پاک ٹو ڈے کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1 روپے 8 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 343 روپے 87 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح تیز رفتار ڈیزل (ہائی اسپیڈ ڈیزل) کی قیمت میں 51 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 370 روپے 92 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔