امریکی امریکی عدالت کا افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کو زبردستی خوراک اور طبی علاج فراہم کرنے کا حکم

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی فیڈرل کورٹ کے جج امیت مہتا نے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کی جان بچانے کے لیے انہیں زبردستی خوراک دینے اور طبی علاج کی فراہمی کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔

عدالتی دستاویزات اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رحمان اللہ لکنوال امریکی گارڈ کے ایک اہلکار کے قتل اور دوسرے کو شدید زخمی کرنے کے الزام میں امریکی حراست میں ہیں۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں اور انہوں نے پانی پینا بھی بند کر رکھا ہے، جس کے باعث ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔

جج امیت مہتا نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یہ قدم ملزم کی زندگی کو لاحق شدید خطرات کو ٹالنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ عدالتی حکم کے تحت طبی عملہ رحمان اللہ کو اس وقت تک زبردستی خوراک اور علاج فراہم کرنے کا مجاز ہوگا جب تک وہ خود سے کھانے پینے اور علاج پر رضامند نہیں ہو جاتے اور ان کی زندگی کا خطر ٹل نہیں جاتا۔ یہ حکم نامہ 28 اکتوبر تک مؤثر رہے گا۔

واضح رہے کہ رحمان اللہ لکنوال پر نومبر میں وائٹ ہاؤس کے قریب امریکی نیشنل گارڈ کی اہلکار سارہ بیکسٹروم کو قتل اور ان کے ساتھی اینڈریو وولف کو شدید زخمی کرنے کا الزام ہے، جبکہ انہوں نے تمام اراکینِ عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد الزامات صحت سے انکار کیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف ان کے خلاف موت کی سزا کی درخواست پر بھی غور کر رہا ہے۔

Related posts

سعودی عرب میں 6 میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ، ریاض اور ینبع بھی نشانے پر

استنبول میں 80 سالہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، سیلاب سے 3 افراد ہلاک، 5 لاپتا

مکہ کی مسجد میں مبینہ فحش فعل، بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی