انگلینڈ سیریز کے دوران کھلاڑیوں کی بے دخلی: سابق کپتانوں کا پی سی بی فیصلے پر شدید ردِعمل

اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں بدترین شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دورانِ سیریز ہی سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے فارغ کرنے کے فیصلے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

حیران کن طور پر بے دخل کیے گئے کھلاڑیوں میں وہ بھی شامل ہیں جو دونوں ٹیسٹ میچز کی پلیئنگ الیون کا حصہ تک نہیں تھے۔ پی سی بی کے اس غیر متوقع قدم پر سابق کپتانوں شاہد آفریدی اور شعیب ملک نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ کی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

​سابق قومی کپتان شاہد آفریدی نے فیصلے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹس کو شامل کرنا عجیب طرزِ عمل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ محض پانچ ٹیسٹ میچوں کی بنیاد پر ہیڈ کوچ کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ اتنے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل کمیٹی سے ایسے غیر متوقع اور غیر منطقی فیصلوں کی توقع نہیں تھی۔

​سابق کپتان شعیب ملک نے کھلاڑیوں کے ساتھ کیے جانے والے رویے پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈراپ کیے گئے کھلاڑی اب بھی ہمارے قومی کرکٹرز ہیں۔ ان کے لیے ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسی زبان استعمال کرنا انتہائی توہین آمیز ہے۔

​شعیب ملک نے واضح کیا کہ احتساب کا آغاز بینچ پر بیٹھے یا دو تین ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے بجائے ان شخصیات سے ہونا چاہیے جنہوں نے کرکٹ کے پورے نظام کو خراب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیریز کے بیچ میں ایسا قدم اٹھانا کھلاڑیوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ان میں ناکامی کا خوف گھر کر جائے گا۔ احتساب کا یہ عمل ہمیشہ دورے کے اختتام پر ہونا چاہیے تھا۔

 

Related posts

پی سی بی کے عجلت پسندانہ فیصلوں پر سابق کپتان شاہد آفریدی پھٹ پڑے

جعلی انجری کا الزام: پی سی بی کا امام الحق کو انگلینڈ سے واپس بلانے اور تحقیقات کا فیصلہ

ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی کا انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان