کراچی (پاک ٹوڈے): قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے دورہ انگلینڈ میں ملنے والی ناکامی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کیے جانے والے ہنگامی فیصلوں اور تبدیلیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پی سی بی کے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کرکٹ کا مذاق بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سخت فیصلے لینے ہی تھے تو سیریز مکمل ہونے کا انتظار کیا جانا چاہیے تھا، وسط سیریز میں اس طرح کے اقدامات سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ بورڈ کے فیصلوں میں نہ تو تسلسل ہے اور نہ ہی میرٹ کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ تیسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی-20 فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو سکواڈ میں شامل کرنا انتہائی حیران کن اور بوجھل فیصلہ ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر سیریز کے دوران کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو فارغ کرنے کا فیصلہ چیئرمین پی سی بی کا بھی تھا، تب بھی سلیکشن کمیٹی کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس بے وقت فیصلے کی مخالفت کرتی۔
سرفراز احمد کی اچانک ہیڈ کوچ کے عہدے پر ترقی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرفراز کے بورڈ میں آنے پر خوشی تھی کہ وہ انڈر 19 کی سطح پر کام کریں گے، لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ کون سے طریقہ کار کے تحت محض 3 ماہ کے اندر انہیں قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنا دیا گیا۔
انہوں نے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ وہ انتظامی معاملات اور ذمہ داریاں دوسروں پر چھوڑنے کے بجائے خود براہِ راست کرکٹ کی بہتری اور معاملات پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کریں۔
واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناقص کارکردگی پر بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد، بولنگ کوچ عمر گل اور 7 اہم کھلاڑیوں کو ریلیز کر کے ٹی-20 فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ سکواڈ کا حصہ بنایا ہے، جس پر کرکٹ حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔