مقبوضہ کشمیر (پاک ٹوڈے): بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں ایک مبینہ انکاؤنٹر میں مارا گیا شخص کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ اور پاکستانی فوج کا سابق اہلکار تھا۔ یہ دعویٰ ذرائع کے حوالے سے سامنے آیا ہے تاہم اس کے حق میں کوئی آزادانہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق مقتول کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے، جس کی تاریخ پیدائش 7 مارچ 1980 بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ 2000 میں پاکستانی فوج میں بھرتی ہوا اور سروس نمبر پی اے 3106947 کے ساتھ حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق محمد آصف کو 2005 میں اسپیشل سروسز گروپ میں شامل کیا گیا، جہاں اس نے 4 کمانڈو یلغار بٹالین میں خدمات انجام دیں۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ 2006 کے بعد وہ بلوچستان میں تعینات رہا اور مبینہ طور پر بلوچ مسلح گروہوں کے خلاف تقریباً 10 کارروائیوں میں حصہ لیا، جبکہ 13 ہلاکتیں بھی اس سے منسوب کی گئیں۔
اے این آئی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ محمد آصف سابق صدر پرویز مشرف کی سیکیورٹی ٹیم کا حصہ رہا اور پہلگام حملے کے سلسلے میں بھی مطلوب تھا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
پاکستانی حکام اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مئی 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہی تھیں۔ بھارت نے حملے کو پاکستان سے جوڑا تھا، تاہم اسلام آباد نے الزام مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
7 مئی کو بھارت کی جانب سے پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملوں کے بعد پاکستان نے کم از کم 6 بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جسے بعد میں 8 طیاروں تک بڑھا دیا گیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے، جبکہ 10 مئی کو امریکی مداخلت کے بعد جنگ بندی ہوئی۔
اپریل میں پہلگام حملے کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان نے بھارت کی جانب سے چلائی جانے والی نئی مبینہ پروپیگنڈا مہم کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت علاقائی بحران کے دوران اپنے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
