اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): ملک کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں کو تیز تر بنانے اور کارگو ہینڈلنگ کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے جامع پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید انتظامی اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن سے قومی تجارت میں نمایاں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے اصلاحاتی فریم ورک کے تحت بندرگاہوں، آف ڈاک ٹرمینلز اور کسٹمز اسٹیشنز کی کڑی نگرانی کا خودکار نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کے تحت سالانہ اور اچانک معائنے کیے جائیں گے۔ نظام کو مزید متحرک بنانے کے لیے کسٹمز قوانین کے مطابق تمام معائنہ مراکز میں 24 گھنٹے آپریشنز، جدید اسکیننگ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے شفافیت یقینی بنائی جائے گی۔
بحری شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور ماہر افرادی قوت کی تیاری کے لیے ایک عالمی معیار کا خصوصی تربیتی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پورٹیبل ویئنگ اسکیلز اور ہائی ویلیو کارگو ایریاز میں توسعی اقدامات کے ذریعے آپریشنل تاخیر کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ این ایل سی سمیت تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے نافذ کی جانے والی یہ اصلاحات نا صرف کارگو ہینڈلنگ کی رفتار کو دوگنا کریں گی بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی تجارتی مسابقت میں بھی حتمی اضافہ ہوگا۔