رپورٹ: حمید سمسور
بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے جمعہ کے روز کہا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ جدوجہد ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
بلوچستان میں رواں سال حالات تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں، جس کا اندازہ حکومتی اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں رواں سال اب تک شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے 50 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور دیگر کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران 1100 شدت پسند اور عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 350 اہلکار بھی جان سے گئے۔
گزشتہ اکتوبر میں یہ معلومات سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران فراہم کیں۔
پریس کانفرنس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، جن میں 1100 شدت پسند مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر سیکیورٹی فورسز کے 315 اہلکار مارے گئے، جن میں 101 پولیس اہلکار اور 215 دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندوں کی کارروائیوں میں 551 عام اور بے گناہ شہری بھی مارے گئے۔
بلوچستان کا جغرافیہ
بعض ماہرین کے مطابق بلوچستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے بھی ایک دشوار گزار علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو ملک کے مجموعی رقبے کا تقریباً 43 فیصد بنتا ہے۔ یہ پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، جبکہ جنوب میں 600 کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی بحیرہ عرب کے ساتھ واقع ہے۔
بلوچستان میں شدت پسندی میں اضافہ کیوں ہوا؟
بلوچستان میں شدت پسندی کے پس پردہ سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل ہیں، جو صوبے بھر میں شورش کا سبب بن رہے ہیں۔
نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی کہتے ہیں کہ بلوچستان میں لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ ان کے مطابق بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے اور اسے صرف طاقت کے بل بوتے پر دبایا نہیں جا سکتا۔
ان کا کہنا ہے:
’’حقوق کا تحفظ، جبری گمشدگیوں کی پالیسیوں کا خاتمہ، لاپتہ افراد کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات، وسائل میں لوگوں کی شراکت داری اور شفاف انتخابات ضروری ہیں۔ مصنوعی قیادت کے ذریعے اسمبلیاں بنائی گئی ہیں، جو نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتیں۔‘‘
ان کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جو بلوچستان میں شورش میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
سیاسی امور کے ماہر محمد عظیم کاکڑ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر دنیا کی نظریں ہیں۔
ان کا کہنا ہے:
’’دنیا کے سونے کے بڑے ذخائر میں سے ایک ریکوڈک میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ گوادر ڈیپ سی پورٹ بھی اہمیت رکھتی ہے، جو دبئی، جبل علی، بندر عباس اور دنیا کے دیگر ممالک کے لیے اہم تجارتی مقام بن سکتی ہے۔ ایسے میں یہاں چین کی حکومتی سطح پر شراکت داری بھی باعث تشویش ہے۔‘‘
کاکڑ کا ماننا ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک خلا موجود ہے۔
کیا حکومت امن و امان کے قیام کے لیے کوشاں ہے؟
پریس کانفرنس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے 18 نئے قوانین اور 17 نئے محکمے بنائے گئے، جبکہ اس سلسلے میں 45 ارب روپے بھی خرچ کیے گئے ہیں۔
سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ فیس لیس کورٹس قائم کی گئی ہیں اور ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز بھی بنائے گئے ہیں، جہاں اس وقت 90 شدت پسند زیرِ حراست ہیں۔ 1400 افراد کو فورتھ شیڈول میں رکھا گیا، جبکہ 3 ہزار ایسے خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ شدت پسندوں کے سہولت کار تھے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ شاہراہوں کی سیکیورٹی کے لیے ایف سی کی ایک نئی ڈویژن قائم کی جا رہی ہے، جس کے لیے میجر جنرل کی تقرری بھی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے کوئٹہ اور لورالائی کے راستے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کیا جاتا تھا، لیکن اس شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز کی 32 مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، جس کے بعد وہاں اب تک کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کے اقدامات کوئٹہ، تفتان اور کوئٹہ، کراچی شاہراہوں پر بھی کیے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ تین سے چار ماہ میں ان شاہراہوں پر بھی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
گڈ گورننس کے لیے حکومتی اقدامات
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میرٹ کی بالادستی ریاستی اداروں پر نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے تمام ستونوں کو عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کی بھرتی، ترقی اور انہیں ذمہ داریاں سونپنے کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ اس سے انہیں سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق خدمات انجام دینے کا موقع ملے گا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی سیاسی اور سیکیورٹی پالیسیوں میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی محرومیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر تعلیم یافتہ نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں، حکومت سے مایوس دکھائی دیتے ہیں اور بعض نوجوان پہاڑوں کا رخ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے بجائے اب مسلح تنظیموں سے بھی بات چیت کرنا ہوگی، جن کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات اور بات چیت ہی کے ذریعے بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل ممکن ہے، جس کے لیے لوگوں کو جمہوری اور سیاسی خودمختاری دینا ضروری ہے۔