تحریر: ریاض حسین
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے دونوں پڑوسی ممالک کے اختلافات کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے ان سکیورٹی خدشات کو سنا ہے جن کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے، اور اگر امریکہ اس معاملے میں کوئی مثبت کردار ادا کرسکتا ہے تو وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد نے امریکی بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے افغان طالبان حکومت کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ذمہ دار اسلام آباد کی پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔
یوں ایک طرف واشنگٹن سفارتی کردار کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے تو دوسری جانب اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدت پسندی، سرحد پار حملوں اور باہمی اعتماد کے فقدان پر بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
امریکی کردار: پاکستان کے خدشات تسلیم، مگر باضابطہ ثالثی کا اعلان نہیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 31 اکتوبر کو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی سے متعلق سوال کا جواب دیا۔
روبیو نے کہا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے حملوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے اور اسلام آباد کا خیال ہے کہ افغان طالبان ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے، جس کے باعث پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے کارروائیاں کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان شدت پسندانہ حملوں کا نشانہ بنے۔ واشنگٹن نے پاکستان کے تحفظات سنے ہیں اور ان حملوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اس معاملے میں کوئی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے تو وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔
افغان طالبان کے ساتھ امریکی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ واشنگٹن کے طالبان حکومت کے ساتھ لازماً قریبی تعلقات نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ تشدد اور شفت پسندی کی ہر شکل کے خلاف ہے، خواہ اس کا مرکز کہیں بھی ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی بنے۔
روبیو کا بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لینے اور ممکنہ سفارتی کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم انہوں نے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی یا کسی باضابطہ ثالثی نظام کا اعلان نہیں کیا۔
پاکستان کا خیرمقدم، مذاکرات کے لیے قابلِ تصدیق کارروائی کی شرط
امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد پاکستان نے امریکہ اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکام شدت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے کا واضح عزم ظاہر کریں۔
پاکستان نے بالخصوص کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور پاکستان کے بقول افغانستان سے سرگرم دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق سکیورٹی خدشات دور کیے بغیر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانا اور بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ محض یقین دہانیاں یا بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ زمینی سطح پر عملی پیش رفت ضروری ہے۔
اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سفارتی رابطوں کا مخالف نہیں، تاہم وہ مذاکرات کو شدت پسندی کے مسئلے کے حل سے مشروط سمجھتا ہے۔
افغان طالبان کا جواب: پاکستان کی پالیسیاں تنازع کی وجہ ہیں
افغان حکومت نے پاکستان کے مطالبات اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی پالیسیوں کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے حل میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو حریت ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی غلط پالیسیاں دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پاکستان کو درپیش انسداد شدت پسند کے مسائل کی وجہ افغانستان نہیں ہے۔ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کے لیے مطلوبہ آمادگی نہیں دکھا رہا۔
افغان حکومت مسلسل اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکام ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارت اطلاعات نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان قیادت شدت پسندی کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے مسلسل گریز دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
امریکی کردار سفارتی پیش رفت کا موقع فراہم کرسکتا ہے: ماہرین
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے ماہر حق نواز خان نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی نئی سفارتی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق امریکی کردار دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً اگر واشنگٹن افغان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات پر آمادہ کرسکے۔
حق نواز خان نے کہا کہ قطر، سعودی عرب، ترکیہ، چین اور روس سمیت کئی ممالک پہلے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرچکے ہیں، تاہم اب تک ان کوششوں سے کوئی پائیدار نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔
ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو فوری ردعمل سامنے آتا ہے، جس کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ جاتی ہے اور سفارتی کوششوں کے لیے دستیاب گنجائش محدود ہوتی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ، چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کی مربوط سفارتی کوششیں دونوں فریقوں کو اپنے تحفظات محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ کرسکتی ہیں۔
حق نواز خان نے زور دیا کہ افغان حکومت کو پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین پر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق تحفظات کو محض مسترد کرنے کے بجائے ان کے ازالے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے چاہئیں۔
اسی طرح پاکستان کو بھی افغانستان کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سمیت دیگر حکام کے بیانات میں سفارتی رابطوں کے لیے کسی حد تک گنجائش دکھائی دیتی ہے، تاہم صرف بیانات سے اعتماد بحال نہیں ہوگا بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت آسان نہیں ہوگی اور اس کے لیے وقت، صبر، سیاسی عزم اور عالمی سطح پر مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
حق نواز خان کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد اور کابل سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں اور عالمی طاقتیں مربوط کردار ادا کریں تو کشیدگی کم کرنے اور کسی اہم پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
قطر، ترکیہ، چین اور روس کی سفارتی کوششیں
پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ عرصے میں متعدد علاقائی اور عالمی ممالک نے سفارتی کوششیں کی ہیں۔
گزشتہ برس قطر اور ترکیہ کی سہولت کاری میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے، تاہم شدت پسندی اور سرحدی سلامتی سمیت اہم معاملات پر اختلافات دور نہ ہوسکے۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف رہا کہ افغان طالبان حکام شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے متعلق مطلوبہ یقین دہانیاں فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
رواں سال چین نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں میں کردار ادا کیا، لیکن ان سے بھی کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
روس نے بھی تنازع کے حل میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔ افغانستان کے لیے روسی خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے گزشتہ ماہ دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی یا سہولت کاری کے امکان کا عندیہ دیا تھا۔
یہ پیش رفت 5 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ مشاورت کے بعد سامنے آئی، جس میں پاکستان اور افغان حکومت کے وفود کے درمیان افغانستان میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس سے متعلق اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا تھا۔
مختلف ممالک کی ان کوششوں کے باوجود اب تک ایسا کوئی مستقل طریقہ کار سامنے نہیں آیا جس کے تحت دونوں فریق شدت پسندی، سرحدی سلامتی اور باہمی اعتماد سے متعلق تنازعات کو حل کرسکیں۔
سرحدی کشیدگی اور سلامتی کے خدشات
سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی برقرار ہے۔
ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوا، جس کے دوران پاکستان نے خیبر پختونخوا میں حملوں کے بعد سرحدی علاقوں میں ہدفی فضائی کارروائیاں کیں۔
اکتوبر میں بھی سرحدی علاقوں میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کرم اور جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان جانب سے مبینہ فائرنگ کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔
ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کیا ہے۔
پاکستان کے لیے سرحد پار حملوں اور شہریوں و سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ بنیادی تشویش ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان کی سرحدی اور سکیورٹی پالیسیوں پر اعتراضات اٹھاتی ہے۔اس صورت حال میں سرحدی واقعات کو بڑے تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنا اور مؤثر رابطہ کاری کا نظام قائم کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
کیا امریکہ مذاکرات میں بریک تھرو کرا سکے گا؟
مارکو روبیو کا حالیہ بیان پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئی سفارتی گنجائش پیدا کرسکتا ہے، تاہم اسے فوری طور پر کسی بڑی سفارتی پیش رفت یا باضابطہ امریکی ثالثی کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی بیان کی اہمیت یہ ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے شدت پسندی سے متعلق تحفظات کو سنا ہے اور ان کے حل میں ممکنہ کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ لیکن اصل امتحان اس آمادگی کو عملی سفارتی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کرتی ہے اور اس کی تصدیق کیسے ممکن ہوگی۔
دوسری جانب افغان حکومت کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ وہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو محض سیاسی الزامات سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کریں۔
ایک ممکنہ راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ امریکہ، چین، قطر، ترکیہ اور دیگر متعلقہ ممالک کی معاونت سے ایک ایسا مذاکراتی اور نگرانی کا طریقہ کار تشکیل دیا جائے جس میں شدت پسند گروہوں کے خلاف اقدامات، سرحدی واقعات کی تحقیقات، رابطہ کاری اور باہمی یقین دہانیوں کے لیے واضح اہداف مقرر ہوں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، سرحدی آمدورفت اور عام شہریوں کے مسائل کو مسلسل کشیدگی کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان جغرافیائی، تاریخی، معاشی اور عوامی روابط کے اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل محاذ آرائی نہ صرف سرحدی علاقوں کے عوام بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور معاشی استحکام کو متاثر کرے گی۔
امریکی کردار اس بحران سے نکلنے کا ایک موقع فراہم کرسکتا ہے، لیکن پائیدار حل کا انحصار بالآخر اسلام آباد اور کابل کی سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔ اگر دونوں فریق ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات تسلیم کرتے ہوئے شدت پسندی کے خاتمے، سرحدی استحکام اور اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات پر متفق ہوجائیں تو کشیدگی میں کمی اور مذاکرات میں بریک تھرو ممکن ہے۔ بصورت دیگر، ماضی کی طرح نئی سفارتی کوششیں بھی بیانات اور ملاقاتوں تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔