ٹرمپ انتظامیہ آئندہ چند روز میں ایران پر جوہری حملہ کر سکتی ہے، ٹکر کارلسن کا دعویٰ

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی میڈیا کی معروف شخصیت اور مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ چند روز میں ایران پر جوہری حملہ کر سکتی ہے۔

ٹکر کارلسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اصرار پر یہ حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ممکنہ حملے کا ہدف ایران کے وسطی علاقے میں واقع ’’پیک ایکس‘‘ پہاڑ ہوگا۔

کارلسن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے اس پہاڑی علاقے میں یورینیم افزودگی کا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کے موجودہ ہتھیار پہاڑ کے نیچے موجود تقریباً 91 میٹر موٹی سخت گرینائٹ چٹانوں کی تہہ کو عبور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے ان کے بقول جوہری حملہ ہی واحد فوجی راستہ رہ جاتا ہے۔

تاہم، ٹکر کارلسن کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی امریکی حکومت کی جانب سے ایران پر ممکنہ جوہری حملے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔

Related posts

پاک افغان کشیدگی: واشنگٹن کی سفارتی پیشکش، اسلام آباد کی شدت پسندی کے خلاف کارروائی کی شرط پر کابل کا جوابی مؤقف

دو افراد کے قتل کے خلاف تنگ مسیزئی میں دھرنا دوسرے روز بھی جاری، کوئٹہ چمن شاہراہ بند

عمران خان سے رابطہ منقطع ہونے پر بیٹے قاسم خان کا اظہارِ تشویش، رہائی کا مطالبہ