قلعہ عبداللہ (پاک ٹوڈے): ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان کی حدود تنگ مسیزئی میں دو افراد کے قتل کے خلاف لواحقین کا احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث کوئٹہ چمن قومی شاہراہ ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب برج عزیز خان گاؤں میں مسلح افراد نے ایک گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص اغوا کر لیا گیا۔ واقعے کے بعد لواحقین اور علاقہ مکینوں نے جاں بحق افراد کی لاشیں سڑک پر رکھ کر قومی شاہراہ بند کر دی اور احتجاجی دھرنا شروع کر دیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، مغوی شخص کو بازیاب کرایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مطالبات پر عملی پیش رفت تک دھرنا جاری رہے گا۔
شاہراہ کی بندش کے باعث کوئٹہ اور چمن کے درمیان ٹریفک معطل ہے۔ مسافر بسوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جبکہ خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت رکنے سے انہیں مالی نقصان بھی ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مغوی شخص کی بازیابی اور اغوا کاروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ تاہم تادمِ تحریر احتجاج ختم نہیں ہو سکا اور شاہراہ پر معمول کی ٹریفک بحال نہیں ہوئی۔