بلوچستان پولیس کا صوبہ بھر میں 800 سے زائد گرفتاریوں اور مغویوں کی بازیابی کا دعویٰ

کوئٹہ (پاک ٹوڈے): آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی خصوصی ہدایات پر کوئٹہ سمیت صوبے کے 9 رینجز کے 33 اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے تحت کارروائیاں تیز کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

​ترجمان بلوچستان پولیس کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، صوبہ بھر میں مختلف جرائم میں مطلوب اشتہاری مجرموں، عدالت سے مفرور اور عادی مجرموں کے خلاف ایک خصوصی مہم جاری ہے۔ پولیس ترجمان کے ان دعووں کے مطابق، گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کی جانے والی کارروائیوں میں 44 اشتہاریوں، 249 مفرور ملزمان اور مختلف جرائم میں ملوث 492 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ایک 11 سالہ بچی سمیت 16 مغویوں کی بحفاظت بازیابی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

​پولیس حکام نے مختلف مقامات پر کی گئی کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے اور 108 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ملزمان کے قبضے سے 95 پسٹل و ریوالور، 6 کلاشنکوف، 7 شارٹ گن و رائفلز، 770 گولیاں و کارتوس اور 48 میگزین برآمد کیے گئے۔

​منشیات کی روک تھام کے حوالے سے بھی پولیس کی جانب سے اہم برآمدگیوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق 62 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 81 کلو 468 گرام چرس، 10 کلو 67 گرام آئس و شیشہ، 525 گرام افیون، 200 پیکٹ گٹکا، 45 گرام کرسٹل، 49 شراب کی بوتلیں، 6 لیٹر دیسی شراب اور غير قانونی سگریٹ کے 1,279 بڑے پیکٹ ضبط کرنے کا موقف اپنایا گیا ہے۔

​اس کے علاوہ پولیس بیان کے مطابق، مختلف کارروائیوں میں 3 مسروقہ گاڑیاں، 44 موٹر سائیکلیں اور 13 موبائل فونز برآمد کیے گئے، جبکہ قانون شکنی پر 2,253 گاڑیوں سے کالے شیشے اتروانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

​ترجمان بلوچستان پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں پرامن ماحول کے قیام اور قانون کی بالادستی کے لیے یہ اقدامات بلا تعطل جاری رہیں گے۔ پولیس حکام کے مطابق تھانوں میں شہریوں کی شکایات کے بروقت اور شفاف ازالے کے ساتھ ساتھ عوام سے خوش اخلاقی اور احترام پر مبنی رویہ اپنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

Related posts

27 ستمبر کا احتجاج مؤخر کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں – چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

سوات میں معصوم بچی کے قتل کے خلاف خواتین کا احتجاجی دھرنا، کالام مدین روڈ بلاک

سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں شدید جھڑپ