سوات میں معصوم بچی کے قتل کے خلاف خواتین کا احتجاجی دھرنا، کالام مدین روڈ بلاک

سوات (پاک ٹوڈے): سوات کے خوبصورت وادی مدین میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نو سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس دردناک سوانح کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور مقامی خواتین نے انصاف کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔

​تفصیلات کے مطابق، مدین کے مقامی رہائشی علاقے میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی خبر پھیلتے ہی خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے مرکزی کالام مدین روڈ پر دھرنا دے کر ہر قسم کی آمدورفت کو روک دیا، جس کے باعث گزشتہ کئی گھنٹوں سے مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

​احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا ہے کہ معصوم بچی کا قتل نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ مظاہرین نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کر کے سخت ترین عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی معصوم کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہ ہو۔

​مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک بچی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا اور اہلخانہ کو مکمل انصاف کی یقینی دہانی نہیں کروائی جاتی، اس وقت تک احتجاجی دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

​واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں اور مظاہرین سے مذاکرات کے ذریعے سڑک کھلوانے اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Related posts

27 ستمبر کا احتجاج مؤخر کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں – چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں شدید جھڑپ

سہیل آفریدی کی نااہلی اور علی امین کی بحالی کا کیس 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر