بلوچستان میں دہشتگرد گروپس کی مبینہ مالی معاونت، وزیر داخلہ کا سرکاری افسران اور سیاستدانوں پر الزام

کوئٹہ (پاک ٹوڈے): بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں سرگرم کالعدم دہشتگرد گروپس کو بعض سرکاری افسران، سیاسی شخصیات اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے مبینہ طور پر مالی مدد اور سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ خفیہ اداروں کے پاس دہشتگرد گروپس کے ساتھ مبینہ مالی روابط کے شواہد موجود ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے ان نیٹ ورکس تک پہنچنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق دہشتگرد گروپس اپنی سرگرمیوں کے لیے بھتہ خوری، شاہراہوں پر ڈکیتی، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان سمیت مختلف ذرائع سے رقم حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے دو مغوی ہزارہ افراد کی رہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر 70 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے جن سرکاری افسران، سیاسی شخصیات یا این جی اوز پر دہشتگردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری کا الزام عائد کیا، ان میں سے کسی کا نام پریس کانفرنس کے دوران ظاہر نہیں کیا گیا۔

Related posts

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل

ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز کا پروقار آغاز: 45 ممالک کے 11 ہزار سے زائد ایتھلیٹس کے درمیان مقابلے جاری

اگر سرحد پار سے دہشتگرد آتے ہیں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ میاں افتخار حسین