پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور کیس کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔
درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار کی جانب سے بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ، علی زمان ایڈووکیٹ، بیرسٹر سرور شاہ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران وکیل بشیر خان وزیر نے بتایا کہ ان کے بھائی صوبائی وزیر فضل شکور خان پشاور آرہے تھے کہ پشاور ٹول پلازہ کے قریب انہیں گاڑی سے اتار کر لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پولیس کے ناکے بھی موجود ہوتے ہیں۔
جسٹس سید ارشد علی کے استفسار پر وکیل نے واضح کیا کہ وزیر پشاور آ رہے تھے جب انہیں اٹھا لیا گیا۔ وکیل نے مزید بتایا کہ آئی جی خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے اسپیکر نے بھی اسمبلی طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آئی جی کو عدالت میں طلب کرنے کی استدعا کی کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ صوبائی وزیر کہاں ہیں۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ وزیر کے ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ۱۴ سے ۱۵ افراد نے گاڑی روکی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
وکیل علی زمان نے کہا کہ صوبائی وزیر کو اٹھایا گیا ہے مگر پولیس کو اب تک کچھ معلوم نہیں۔ گزشتہ چند روز سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور ان کے گھر پر بھی گاڑیاں آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صوبائی وزیر کو اٹھایا گیا ہے تو کل کسی اور کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے واضح طور پر کہا کہ اگر صوبائی وزیر محفوظ نہیں تو عام لوگوں کے تحفظ کا کیا ہوگا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی جائے گی، اس کے بعد معاملے کو دیکھا جائے گا۔ اس کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی۔