اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیانات سامنے آگئے ہیں، جن میں دونوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی اور تفتیش پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ احتجاجاً یہ بیان جمع کرا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، کرکٹ ٹیم متعلقہ راستے سے گزر نہیں رہی تھی اور پولیس نے بتایا تھا کہ ٹیم متبادل راستے سے جا چکی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سڑک بند کرنے کے لیے پولیس کے پاس مجسٹریٹ کا حکم موجود نہیں تھا، اس لیے 15 منٹ انتظار کے بعد انہوں نے راستہ کھولنے کی درخواست کی۔
ایمان مزاری نے الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن نے ویڈیو کی اصل ٹرانسکرپٹ جان بوجھ کر چھپائی۔ ان کے مطابق، بغیر وردی کے ایک پولیس اہلکار نے ان پر لوہے کا بیریئر پھینکا، جس سے وہ زخمی ہوئیں، جبکہ ان کے شوہر نے انہیں بچانے کے لیے دفاعی قدم اٹھایا۔ انہوں نے پمز اسپتال کی میڈیکل رپورٹ کو بھی اپنے مؤقف کے حق میں ثبوت قرار دیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کے ثبوت کی عدم موجودگی کا دعویٰ بھی کیا اور یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کئی روز تک پولیس اسٹیشن میں بغیر سیل کیے رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں اور کوئی آزاد گواہ شامل نہیں کیا گیا۔
ہادی علی نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو جیل میں ٹرائل کے دوران پنجرے میں رکھا گیا۔ انہوں نے پنجرے میں ٹرائل، اپنی عدم موجودگی میں شہادتیں ریکارڈ کرنے اور سرکاری وکیل کی تقرری کو چیلنج کرنے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، پولیس کے پاس سڑک بند کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم نہیں تھا اور پراسیکیوشن نے ویڈیو کی ٹرانسکرپٹ چھپائی۔
ہادی علی نے مزید الزام لگایا کہ پولیس اہلکار نے لوہے کے بیریئر سے ان کی حاملہ اہلیہ پر حملہ کیا، جس پر انہوں نے دفاعی قدم اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یو ایس بی کی فارنزک جانچ اور وائس میچنگ سمیت تفتیشی کارروائیاں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کیے جانے کے بعد غیر قانونی تھیں۔
دونوں نے اپنے بیانات میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود دوبارہ گرفتاری اور تشدد کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم، یہ مؤقف ان کے عدالتی بیانات پر مبنی ہیں؛ ان الزامات اور مقدمے کے میرٹ کا تعین عدالت کرے گی۔