ماسکو (پاک ٹوڈے): ایران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خلیجی خطے میں نئی فوجی کارروائی عالمی منڈیوں، توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں اسرائیل کی کسی نئی فوجی مہم کے اثرات صرف ایران یا گیس فراہم کرنے والے ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کے صارفین بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اجلاس میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے عرب ممالک کو 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے ممکنہ منظرنامے کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔ ادھر اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے انتخابی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہوئی، تاہم حکومت بنانے کے لیے انہیں دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہو سکتی ہے۔ انتخابات سے قبل نیتن یاہو ایران پر حملے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے مخالفت کی تھی جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی انتخابات سے قبل ایسی کارروائی کو سیاسی عمل سے جوڑتے ہوئے ناقابلِ عمل قرار دیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی صورت حال بھی عالمی توانائی منڈیوں کے لیے اہم بن گئی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت محدود کر رکھی ہے، جس کے باعث متبادل راستوں اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ یا خلیجی خطے میں نئی فوجی کارروائی کی صورت میں خام تیل کی عالمی رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ تاہم قیمتوں میں اضافے کی شدت کا انحصار جنگ کی نوعیت، تیل کی رسد اور عالمی منڈیوں کے ردعمل پر ہوگا۔