افغان شہریوں کی لاشوں کے پاس ہتھیار رکھنے سے آسٹریلوی اسپیشل فورسز کے افسران آگاہ تھے، تحقیق

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): آسٹریلیا کی اسپیشل ایئر سروس (SAS) کے بعض افسران افغانستان میں غیرملکی شہریوں کی لاشوں کے پاس ہتھیار رکھ کر انہیں جنگجو ظاہر کرنے کے عمل سے آگاہ تھے، تاہم انہوں نے اس غیرقانونی اقدام کو روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔

2021 میں کی گئی فوجی تحقیق میں اسپیشل فورسز کے اندر قیادت کی کمزوریوں، فوجی نظم و ضبط کی خرابی اور مبینہ پردہ پوشی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس سے قبل 2020 میں ہونے والی بریریٹن انکوائری میں افغانستان میں آسٹریلوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں 39 افغان شہریوں اور قیدیوں کے قتل سے متعلق معتبر شواہد سامنے آئے تھے۔

آسٹریلیا کی دفاعی افواج کے سربراہ مارک ہیمنڈ نے نئی رپورٹ کے نتائج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیشل فورسز کے کمانڈ ڈھانچے میں سنگین ناکامیاں موجود تھیں۔

Related posts

پنڈی بھٹیاں میں مسافر بس سیم نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی

مولانا فضل الرحمان کی تقریر بلیک آؤٹ کرنے پر جے یو آئی کا شدید ردعمل

پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا