واشنگٹن(پاک ٹوڈے): ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی فوج کو طیاروں اور ڈرونز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 3.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکی نقصانات میں لڑاکا طیاروں کے علاوہ نگرانی، فضائی ایندھن کی فراہمی، ہیلی کاپٹرز اور بغیر پائلٹ کے طیارے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے جنگ کے دوران 12 ایف-15 ای، ایک ایف-35 اے، دو اے-10 اور سات کے سی-135 طیارے کھوئے۔ رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کو کویت کے قریب اپنے ہی طیاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایف-15 کے تین طیارے تباہ ہوئے، جبکہ اگلے ماہ ایران کے اوپر ایک اور ایف-15 کو مار گرائے جانے کی اطلاع دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اردن کے موفق السلطي ایئربیس پر 9 اور 10 ستمبر کو ہونے والے ایرانی حملوں کے دوران کم از کم آٹھ مزید ایف-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا۔
امریکی نقصانات میں ایک ای-3 سینٹری، دو ایم سی-130 جے، ایک ایچ ایچ-60 ڈبلیو ہیلی کاپٹر، ایک ایم کیو-4 سی، تین ایم کیو-1 اور 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ جنگی کارروائیوں کے دوران ایک اے ایچ-64 اپاچی، چار اے ایچ-6 اور ایک ایم ایچ-60 ہیلی کاپٹر کے ضائع ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایم کیو-9 ریپر ڈرون کی قیمت 30 سے 50 ملین ڈالر جبکہ ای-3 سینٹری طیارے کی قیمت تقریباً 270 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق نقصانات کے حتمی اعداد و شمار میں تبدیلی ممکن ہے، کیونکہ بعض معلومات خفیہ ہیں اور کچھ متاثرہ طیاروں کو مرمت کے بعد دوبارہ آپریشنل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ لاگت ایک ماہ کے دوران 21.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 28.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
تاہم ان اعداد و شمار کو امریکی فوجی نقصانات کے حتمی اور مستقل اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے رپورٹ میں دی گئی معلومات اور دستیاب تخمینوں کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ جنگی نقصانات سے متعلق بعض تفصیلات خفیہ رکھی جاتی ہیں اور تباہ یا متاثر ہونے والے بعض اثاثے بعد ازاں مرمت کے ذریعے دوبارہ استعمال کے قابل بھی ہو سکتے ہیں۔
