اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): ملک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال کے پیش نظر متحدہ اپوزیشن کا پہلا باضابطہ پارلیمانی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں اہم قومی و ترجیحی امور پر مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اس امر پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ موجودہ مرحلے پر اپوزیشن کی جدوجہد کو آئینی و قانونی حدودی قیود کے اندر یعنی قانون سازی کے پلیٹ فارم تک محدود رکھا جائے گا۔ رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ مہنگائی، امن و امان کی نازک صورتحال، معیشت، عدلیہ کے امور، دہشت گردی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور نئے صوبوں کے قیام جیسے کلیدی ایشوز پر پارلیمنٹ کے اندر ایک ہی مضبوط اور مشترکہ آواز بلند کی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ملک جس نوعیت کے حالات سے گزر رہا ہے، اس میں صوبوں کی تقسیم کا سوال اٹھانا مناسب نہیں کیونکہ اس سے باہمی عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن جماعتوں کے ایک نقطے پر اتحاد کو خوش آئند قرار دیا، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کو مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانے کے حوالے سے مکمل اعتماد اور یقین دہانی کرائی ہے۔