اسلام آباد میں پولیس مقابلے پر سوالات، زیرِ حراست 2 افغان ملزمان کی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اسلام آباد میں پولیس کارروائی کے دوران زیرِ حراست دو افغان ملزمان کی ہلاکت کا واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق عبداللہ اور ملہے خان کو اپنے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے راول ٹاؤن کے قریب ایک کباڑ خانے لے جایا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر جنگل میں چھپے چار ملزمان نے انہیں چھڑانے کے لیے فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق دونوں زیرِ حراست ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوئے اور اسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افغان شہری تھے اور ایک خاتون سے موبائل فون چھیننے اور جنسی زیادتی کی کوشش کے الزام میں گرفتار تھے۔ وہ جسمانی ریمانڈ پر تھے۔

واقعے کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ فائرنگ کے حالات، زیرِ حراست ملزمان کی ہلاکت اور پولیس کارروائی کے طریقۂ کار کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

Related posts

معیشت، سیاست اور سیکیورٹی: پاکستان موجودہ بحرانوں سے کب اور کیسے نکل سکتا ہے؟

کویت کی جانب سے افغانستان کے انسانی امدادی فنڈ کے لیے 25 لاکھ ڈالر کی نئی امداد

ٹانک کے گومل بازار میں سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی، 3 شدت پسند مارے گئے