معیشت، سیاست اور سیکیورٹی: پاکستان موجودہ بحرانوں سے کب اور کیسے نکل سکتا ہے؟

تحریر: محمد ثاقب آفریدی

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف معاشی استحکام کی کوششیں جاری ہیں، دوسری جانب سیاسی کشیدگی، دہشت گردی، قرضوں کا دباؤ اور عوامی مشکلات ریاستی نظام کے لیے مسلسل آزمائش بنے ہوئے ہیں۔ ملک کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا پاکستان بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے یا موجودہ مسائل اسے ایک طویل غیر یقینی دور کی طرف لے جا رہے ہیں۔

اس سوال کا جواب صرف حکومت کی کارکردگی، کسی ایک سیاسی جماعت کے مؤقف یا معیشت کے چند اعداد و شمار سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے سیاسی نظام کی کیفیت، معیشت کی بنیادی ساخت، امن و امان، اداروں کے باہمی تعلقات اور عام شہری کی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا مجموعی جائزہ ضروری ہے۔

پاکستان میں معاشی سطح پر کچھ مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن اسے مکمل بحالی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی اور سیکیورٹی مسائل بدستور اہم خطرات ہیں، جبکہ ان کے حل کے لیے کسی حتمی تاریخ کا تعین ممکن نہیں۔

معاشی استحکام یا وقتی ریلیف؟

پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے مالیاتی دباؤ، بلند مہنگائی، بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات، محدود ٹیکس آمدن اور توانائی کے شعبے میں ساختی مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ان مسائل نے حکومتوں کی معاشی پالیسیوں، کاروباری سرگرمیوں اور عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے۔

تاہم حالیہ معاشی صورتِ حال میں کچھ ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 7 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے قرض پروگرام کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس وقت اعلان کے مطابق، حتمی منظوری کی صورت میں پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر اور 21 کروڑ ڈالر کی اضافی رقوم تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 2026 کے لیے معاشی شرحِ نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا، جبکہ ستمبر میں عمومی مہنگائی کی شرح تقریباً 10.3 فیصد بتائی گئی۔ یہ اعداد و شمار معاشی سرگرمیوں اور قیمتوں کے دباؤ میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن انہیں عوامی خوش حالی کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ معاشی استحکام کے یہ آثار عام شہری کی زندگی میں کب اور کس حد تک محسوس ہوں گے؟

اگر مجموعی معاشی شرحِ نمو میں اضافہ ہو، لیکن نئی ملازمتیں پیدا نہ ہوں، کاروبار کی لاگت بلند رہے، بجلی اور گیس کے بل آمدن کا بڑا حصہ کھا جائیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام خاندان کی پہنچ سے باہر رہیں تو معاشی بہتری کا فائدہ محدود طبقے تک رہ سکتا ہے۔

اسی لیے معاشی کامیابی کو صرف شرحِ نمو، زرمبادلہ کے ذخائر یا قرض پروگرام کی قسطوں سے نہیں جانچنا چاہیے۔ اس کے لیے حقیقی آمدن، روزگار، پیداواری سرمایہ کاری، برآمدات اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

 

آئی ایم ایف پروگرام: ضرورت بھی، امتحان بھی

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام فوری مالیاتی دباؤ کم کرنے، بیرونی مالی معاونت تک رسائی برقرار رکھنے اور معاشی پالیسیوں میں نظم پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تاہم قرض پروگرام بذاتِ خود معیشت کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا۔

آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں بہتری، سرکاری مالیات کے شفاف انتظام، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، گردشی قرضے پر قابو پانے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال، ٹیکسوں کا منصفانہ بوجھ، پیداواری شعبوں کی کمزور کارکردگی اور پالیسیوں کا تسلسل بھی ہے۔

اگر حکومتیں مالیاتی نظم کے ساتھ برآمدات، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کو مضبوط بناتی ہیں تو بیرونی قرضوں پر انحصار بتدریج کم کرنے کی بنیاد قائم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر معاشی نظم و ضبط کا زیادہ تر بوجھ بجلی، گیس، بالواسطہ ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعے عام شہری پر منتقل ہوتا رہا تو معاشی اعداد و شمار میں بہتری کے باوجود عوامی بے چینی برقرار رہ سکتی ہے۔

لہٰذا اصل امتحان یہ نہیں کہ پاکستان ایک اور قرض کی قسط حاصل کر لیتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس مالیاتی سہولت کو پائیدار معاشی اصلاحات میں کس حد تک تبدیل کرتا ہے۔

سیاسی بحران: اختلافِ رائے سے آگے کا مسئلہ

پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی، انتخابی عمل پر اختلافات، احتجاجی سیاست اور ریاستی اداروں کے کردار سے متعلق بحث مسلسل نمایاں رہی ہے۔

سیاسی اختلاف کسی بھی جمہوری نظام کا فطری حصہ ہے، لیکن جب اختلافات پارلیمان، مذاکرات اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے حل ہونے کے بجائے طویل محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائیں تو حکمرانی، قانون سازی اور عوامی مسائل کے حل کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے آئینی تقاضوں، شفافیت اور سیاسی مکالمے کو بھی اہمیت دے۔ اسی طرح اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو جمہوری اور آئینی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھائے۔

اس بحث کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی استحکام کا مطلب اختلافِ رائے کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں مختلف سیاسی قوتیں اختلاف کے باوجود ریاستی امور، معیشت اور شہری حقوق کے حوالے سے قابلِ عمل راستے تلاش کر سکیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج: امن و امان کے نام پر صوبائی خودمختاری اور جمہوری نظام کو درپیش خدشات

گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدام سے صوبے میں سیاسی محاذ آرائی بڑھنے، وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد متاثر ہونے اور منتخب نمائندوں کے کردار سے متعلق تنازعات پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

خیبر پختونخوا جیسے صوبے میں، جہاں امن و امان کے مسائل کے ساتھ عوامی اعتماد اور مقامی سطح پر تعاون بھی اہم ہیں، سیاسی اتفاقِ رائے اور منتخب اداروں کی شمولیت کو نظرانداز کرنا مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

امن و امان کی ذمہ داری پوری کرنا بلاشبہ ریاست کی بنیادی ترجیح ہے، لیکن اس مقصد کے لیے اقدامات آئینی تقاضوں کے مطابق، واضح جواز اور مؤثر نگرانی کے تحت ہونے چاہئیں۔ صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں، پارلیمان اور متعلقہ اداروں کے درمیان مذاکرات اور مشترکہ حکمتِ عملی ایسے متبادل راستے فراہم کر سکتی ہے جن سے سیکیورٹی کے تقاضوں اور جمہوری اصولوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عوامی نمائندگی، صوبائی خودمختاری اور آئینی اداروں پر اعتماد کو برقرار رکھا جائے۔ گورنر راج سے متعلق فیصلے کا جائزہ لیتے وقت صرف فوری انتظامی پہلوؤں کو نہیں بلکہ اس کے جمہوری، سیاسی اور عوامی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

تاہم ایک بات واضح ہے: اگر سیاسی تنازعات مسلسل بڑھتے رہیں تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی توجہ عوامی مسائل سے ہٹ سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے پالیسیوں کا تسلسل غیر یقینی ہو سکتا ہے اور طویل مدتی منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان کو ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں قومی سلامتی پر مؤثر تعاون، معاشی اصلاحات پر بنیادی اتفاق اور اختلافات کے حل کے لیے قابلِ اعتماد آئینی راستے موجود ہوں۔

سیکیورٹی بحران: پاکستان کے مستقبل کا سب سے سنگین امتحان

پاکستان کی موجودہ صورتِ حال میں سیکیورٹی کا مسئلہ محض امن و امان تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات معیشت، سرمایہ کاری، تعلیم، روزگار، عوامی اعتماد اور ریاستی اداروں کی کارکردگی تک پھیلتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 رپورٹ کے مطابق، پاکستان 2025 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک قرار پایا۔ رپورٹ میں 1,045 واقعات، 1,139 اموات اور 1,595 زخمیوں کا اندراج کیا گیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسندی کا خطرہ معمولی یا محدود نوعیت کا مسئلہ نہیں۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے رہے، جہاں 2025 میں ملک کے 74 فیصد سے زیادہ شدت پسند حملے اور 67 فیصد اموات ریکارڈ ہوئیں۔

یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کی صورتِ حال بیان کرتے ہیں؛ انہیں موجودہ ہفتوں یا مہینوں میں حملوں کی تعداد کا براہِ راست پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود یہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنج کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔

شدت پسندی کے اثرات میدانِ جنگ سے آگے تک

جب کسی علاقے میں حملوں کا خطرہ بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیکیورٹی اہلکاروں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں رہتے۔

مقامی کاروبار متاثر ہوتے ہیں، نقل و حمل اور تجارت میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، تعلیمی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں اور خاندانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے۔ بعض علاقوں میں شہریوں کو نقل مکانی، روزگار کے نقصان اور بنیادی سہولتوں تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی طرح سرمایہ کار ایسے علاقوں میں سرمایہ لگانے سے گریز کر سکتے ہیں جہاں سیکیورٹی کی صورتِ حال غیر یقینی ہو۔ اس سے روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کی بحالی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکیورٹی کارروائیاں اہم ہیں، لیکن طویل مدتی حکمتِ عملی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں، سرحدی نگرانی، مقامی پولیس کی استعداد، عدالتی نظام، غیر قانونی مالی معاونت کی روک تھام اور متاثرہ علاقوں کی سماجی و معاشی بحالی بھی شامل ہونی چاہیے۔

اس کے ساتھ شہریوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور شکایات کے مؤثر ازالے کو بھی مرکزی اہمیت دینا ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ شدت پسندی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کو ایسے انتظامی اور ترقیاتی اقدامات سے جوڑے جو متاثرہ علاقوں میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکیں۔

معیشت، سیاست اور سیکیورٹی کا باہمی تعلق

پاکستان کے موجودہ مسائل کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ درحقیقت یہ تینوں شعبے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سیاسی عدم استحکام معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو متاثر کر سکتا ہے۔ معاشی مشکلات حکومت کے لیے عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کرنا دشوار بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح سیکیورٹی کی خراب صورتِ حال سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے مواقع محدود کر سکتی ہے۔

جب روزگار کے مواقع کم ہوں، مہنگائی آمدن پر دباؤ ڈالے اور عوام کو مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا ہو تو معاشرتی بے چینی بڑھنے کا امکان رہتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ معاشی مشکلات لازماً شدت پسندی یا سیاسی بحران پیدا کرتی ہیں؛ ان مسائل کے اسباب متعدد اور مختلف ہو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا پائیدار حل کسی ایک شعبے میں محدود کامیابی سے حاصل نہیں ہوگا۔

معاشی اصلاحات کے ساتھ سیاسی استحکام، سیکیورٹی پالیسی کے ساتھ شہریوں کا اعتماد، اور انتظامی فیصلوں کے ساتھ شفاف احتساب ضروری ہے۔ ان پہلوؤں میں پیش رفت ایک دوسرے کی کامیابی کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔

عام پاکستانی کہاں کھڑا ہے؟

قومی سطح کے معاشی اعداد و شمار اور سیاسی بیانات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو عام شہری کے لیے بنیادی سوال زندگی گزارنے کی لاگت، روزگار، تعلیم، علاج، بجلی، گیس اور مستقبل کے تحفظ کا ہے۔

ایک خاندان کے لیے معاشی بہتری اس وقت زیادہ معنی رکھتی ہے جب اس کی آمدن میں حقیقی اضافہ ہو، روزگار کے مواقع دستیاب ہوں، بچوں کی تعلیم اور علاج قابلِ برداشت ہوں اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد کچھ رقم بچانا ممکن ہو۔

اسی طرح کاروباری طبقے کے لیے ضروری ہے کہ بجلی اور گیس کی لاگت، ٹیکسوں کے قواعد، قرضوں تک رسائی اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں پیش گوئی کے قابل ماحول میسر ہو۔

نوجوانوں کے لیے تعلیم کے ساتھ ہنر، ٹیکنالوجی، کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر معاشی ترقی روزگار پیدا نہ کرے تو آبادی کے بڑے حصے کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس لیے حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معاشی اقدامات کے فوائد کس حد تک عام شہری تک پہنچ رہے ہیں۔ صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ معیشت کے بعض اشاریے بہتر ہوئے ہیں؛ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ان تبدیلیوں نے شہریوں کی زندگی میں کیا فرق پیدا کیا۔

پاکستان کس سمت جا سکتا ہے؟

موجودہ شواہد کی بنیاد پر پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی قطعی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔ البتہ چند ممکنہ راستوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا راستہ: بتدریج استحکام۔ اگر معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رہے، سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمہ آگے بڑھے اور سیکیورٹی ادارے متاثرہ علاقوں میں امن بہتر بنانے میں کامیاب ہوں تو آنے والے ایک سے دو برس میں کچھ شعبوں میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔ تاہم اس کا انحصار عملی نتائج پر ہوگا، صرف اعلانات پر نہیں۔

دوسرا راستہ: محدود معاشی بہتری کے ساتھ مسلسل بحران۔ اگر مالیاتی استحکام تو برقرار رہے لیکن سیاسی تنازعات حل نہ ہوں، شدت پسندی کا خطرہ جاری رہے اور سرمایہ کاری و روزگار میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو ملک بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود عوامی سطح پر مشکلات کا سامنا کرتا رہ سکتا ہے۔

تیسرا راستہ: اصلاحات میں تعطل اور دباؤ میں اضافہ۔ اگر مالیاتی نظم کمزور پڑ جائے، بیرونی معاشی حالات خراب ہوں، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو یا سیکیورٹی کی صورتِ حال مزید بگڑ جائے تو معاشی اور سیاسی دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک ممکنہ خطرہ ہے، کوئی یقینی نتیجہ نہیں۔

ان میں سے کون سا راستہ سامنے آئے گا، اس کا تعین موجودہ پالیسیوں کے تسلسل، سیاسی فیصلوں، عالمی معاشی حالات اور سیکیورٹی صورتِ حال سے ہوگا۔

یہ حالات کب تک چلیں گے؟

یہ اس بحث کا سب سے اہم اور مشکل سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مستند ادارہ یہ تاریخ مقرر نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کب مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔
البتہ مختلف مسائل کے دورانیے اور ان کے حل کے تقاضے الگ الگ ہیں۔

Related posts

تجارت اور سیاست کا الجھاؤ: چین، بھارت اور افغانستان کے ساتھ غیر متوازن تجارتی روابط، پاکستان کو 4.97 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا

ملتان میں زیر تعمیر پلازے کی چھت گر گئی، متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے

نوشکی گرلز کالج میں مسلح افراد کی فائرنگ، 3 طالبات زخمی