تحریر: ریاض حسین
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریوں کے ساتھ ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف حکومت نے احتجاج اور اسلام آباد میں داخلے کو روکنے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور بانی عمران خان کی بہنوں کی گرفتاریوں نے آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور گرفتاریوں کے قانونی طریقہ کار سے متعلق سوالات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔
گرفتاریوں اور مبینہ کارروائیوں پر قانونی سوالات
سپریم کورٹ کے وکیل بشیر خان وزیر نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شہری کی گرفتاری یا حراست کے لیے آئین اور قانون میں مقررہ طریقہ کار پر عمل ضروری ہے۔ ان کے مطابق صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات شکیل خان اور صوبائی وزیر عبد الشکور خان سے متعلق حالیہ واقعات نے قانونی طریقہ کار کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔
بشیر خان وزیر کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہو اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہو تو ضابطہ فوجداری کے تحت اس کی گرفتاری کا باقاعدہ طریقہ موجود ہے۔ ان کے مطابق صرف ایف آئی آر کا اندراج خودبخود کسی شخص کی گرفتاری کا جواز نہیں بنتا بلکہ قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور پریولیجز ایکٹ 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب ارکان کے خلاف کارروائی کی صورت میں بھی مخصوص قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ بشیر خان وزیر نے بعض حالیہ واقعات کو ’’غیر قانونی حراست‘‘ اور ’’اغوا‘‘ قرار دیا، تاہم پنجاب میں سرکاری حکام کو کہنا ہے کہ عمران خان کے بہنوں کو امن عامہ کو نقصان کی خاطر حراست میں رکھا گیا ہے
گرفتاری کے واقعات
خاندانی ذرائع کے مطابق ایم این اے زبیر وزیر 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائش گاہ کو گھیرے میں لینے کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں اور پھر زبیر وزیر کو نامعلوم مقام کی طرف منتقل کر دیا گیا۔
زبیر خان وزیر جنوبی وزیرستان اپر و لوئر سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ تاہم اب تک سرکاری سطح پر اس اغوا کی تصدیق نہیں ہوئی اور پولیس کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق صوبائی وزیر شکیل خان کے خلاف کارروائی اور گرفتاری کی کوششیں سیاسی دباؤ کا حصہ ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شکیل خان سے متعلق بٹ خیلہ میں ایک مشتبہ گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، جس میں ایک شخص زخمی ہوا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جبکہ شکیل خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے
فضل شکور خان کے بارے میں پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ پشاور ٹول پلازہ میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئےاور انھیں حراست میں لیا یا مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اس کے بعد ہوئی کورٹ پشاور میں ان کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کی گئی خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
تاہم اس معاملے میں بھی مکمل سرکاری مؤقف اور واقعے کی حتمی قانونی حیثیت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکتی ہے۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بنیادی حقوق کا معاملہ ضلع مہمند سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور رہنما ساجد خان کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں سے آزادیِ اظہار، سیاسی سرگرمی اور پرامن احتجاج کے آئینی حق سے متعلق سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کو آئین، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کا کہنا ہے کہ پارٹی نے سیاسی معاملات کو مذاکرات اور آئینی راستے سے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول کارکنوں کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں نے پارٹی کے لیے سیاسی میدان محدود کردیا ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں سیاسی دباؤ کی نوعیت رکھتی ہیں، جبکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان اور قانونی کارروائیوں کو اس کا سبب قرار دیتے ہیں۔
عمران خان کی بہنوں کی گرفتاریاں بھی بحث کا حصہ
اسلام آباد مارچ سے قبل عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں 30 روز کے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کے تحت حراست میں لیے جانے کا حکم جاری کیا گیا۔ بعد ازاں ان کی دو دیگر بہنوں، عظمٰی خان اور نورین نیازی کی حراست کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ علیمہ خان کی حراست کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ گرفتاریاں بھی اس وسیع تر بحث کا حصہ بن گئی ہیں کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامی قوانین کے استعمال اور سیاسی سرگرمیوں کے بنیادی حق کے درمیان قانونی توازن کس طرح قائم کیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم اور احتجاج کا قانونی دائرہ
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ جبکہ اسلام آباد میں پہلے سے کنٹینرز لگانے کاکام شروع ہو چکا ہے وفاقی حکومت نے اسی عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق ہونا چاہیے 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی درخواست پر مبینہ ہراساں کرنے اور گرفتاریوں کے معاملے میں حکام کو انہیں ہراساں یا گرفتار کرنے سے روکا اور ایس ایس پی آپریشنز کو عدالت میں طلب کیا تھا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ تنازع صرف سیاسی احتجاج تک محدود نہیں بلکہ اس میں عدالتی احکامات، انتظامی اختیارات اور شہری و سیاسی حقوق بھی براہِ راست زیر بحث ہیں۔
حکومت کا مؤقف: قانون اور امن و امان مقدم
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو 27 ستمبر کے مارچ سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مکمل اقدامات کرے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا کہ وہ ایسی صورتحال پیدا نہ کرے جہاں سے واپسی کا راستہ باقی نہ رہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے نام پر سڑکوں کی بندش، سرکاری تنصیبات یا شہریوں کی آمدورفت متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی تناظر میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں کنٹینرز، اضافی نفری اور دیگر سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
احتجاج کا حق اور قانون کی پابندی
موجودہ صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنے قانونی اختیارات کس حد تک استعمال کرتی ہے اور احتجاج کرنے والی جماعتیں اپنے آئینی حق کو کس حد تک قانون کے دائرے میں استعمال کرتی ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان کے نام پر ہونے والی ہر گرفتاری، حراست یا کارروائی کے لیے واضح قانونی بنیاد اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی یقینی بنائے۔ اسی طرح احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن سیاسی سرگرمی کے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے عدالتی احکامات، شہریوں کی آمدورفت اور قانون کی پابندی کو ملحوظ رکھیں۔
موجودہ کشیدگی میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات، قانونی طریقہ کار اور تحمل کا راستہ اختیار کرنا اس لیے اہم ہے کہ سیاسی اختلاف کسی ایسے تصادم میں تبدیل نہ ہو جس میں شہریوں، کارکنوں، پولیس یا ریاستی اداروں کو نقصان پہنچے۔
