استنبول: ‘مکہ ڈیفنس الائنس’ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں اہم فیصلے، سیکرٹریٹ ریاض اور پہلا سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہوگا

استنبول (پاک ٹوڈے): پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین رواں ماہ طے پانے والے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اہم ترین اجلاس ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہوا، جس میں معاہدے کے کلیدی خدوخال اور انتظامی ڈھانچے کی منظوری دی گئی۔

اس اہم ترین اجلاس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی۔

اجلاس کے اختتام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اعلان کیا کہ اس سہ فریقی دفاعی معاہدے کا باضابطہ اور آفیشل نام "مکہ ڈیفنس الائنس” (Makkah Defense Alliance) رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الائنس کا مستقل سیکرٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جائے گا، جبکہ اس دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کا انتخاب برادر ملک پاکستان سے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ تینوں اسلامی ممالک نے رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب میں ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی بنیادی شق کے تحت اتحاد میں شامل کسی بھی ایک ملک پر عسکری حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس الائنس کو خطے میں دفاعی تعاون اور سیکیورٹی استحکام کے حوالے سے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

Related posts

بھارت: مسلم پرسنل لا بورڈ کا "تحریک تحفظ دستور و شریعت” کا اعلان، ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

بنوں: دن پہلے پولیس کی جانب سے لاپتہ کئے گئے بصيرالحق کی تشدد زدہ لاش برآمد

افغانستان سے انخلاء: "افغان اتحادیوں کو چھوڑ کر لگتا تھا خیانت کر رہے ہیں”، سابق امریکی کمانڈر کا اعتراف