نئی دہلی (پاک ٹوڈے): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھارت میں آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور شریعت کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر ’’تحریک تحفظ دستور و شریعت‘‘ شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
بورڈ کی جانب سے 31 اگست 2026 کو جاری کردہ پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تحریک کے تحت ملک بھر میں پرامن اور جمہوری انداز میں عوامی اجتماعات، احتجاجی پروگرام اور قانونی آگاہی مہمات چلائی جائیں گی۔ بیان کے مطابق ہندوستان کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور عزت و وقار کی ضمانت دینا ریاست کا آئینی فرض ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جن سے بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور شہری حقوق شدید متاثر ہوئے ہیں۔
مسلم پرسنل لا بورڈ نے نشاندہی کی کہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی)، وقف قوانین میں ترمیم، مساجد و دیگر مذہبی مقامات کے تنازعات اور مسلم نوجوانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں سنگین چیلنجز بن چکے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر پرامن اور آئینی راستے پر چلتے ہوئے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تحریک کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی جلسے منعقد کیے جائیں گے جن میں تمام مکاتبِ فکر کی مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔
مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک مفصل وائٹ پیپر تیار کر کے عوام، دانشوروں اور سیاسی نمائندوں تک پہنچایا جائے گا۔
شہریوں کو ان کے آئینی و قانونی حقوق، عبادت گاہوں کے تحفظ اور شرعی مسائل پر آگاہی دینے کے لیے ایک رہنما کتابچہ شائع کیا جائے گا۔
ہجومی تشدد کے واقعات کی روک تھام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت سے موثر قانون سازی کا مطالبہ کیا جائے گا۔