اسلام آباد (پاک ٹوڈے): عالمی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کو پارلیمنٹ میں 174 قانونی ترامیم پیش کرنا ہوں گی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے آئی ایم ایف پروگرام، آئندہ قسط اور دیگر معاشی امور پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں جاری آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا جائزہ لیا گیا۔
سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ مجموعی طور پر 174 ترامیم شامل ہیں، جن میں ٹیکس، توانائی، نجکاری، خودمختار دولت فنڈ، چینی پالیسی، اسلامی بینکاری اور مالیاتی استحکام سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
اجلاس میں ڈسکوز کی نجکاری، پی آئی اے کے 75 فیصد حصص، کفایت شعاری اور ٹیکس و توانائی اصلاحات پر پارلیمانی نگرانی سخت کرنے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔
چینی پالیسی کے حوالے سے تین صوبوں کے اتفاق جبکہ ایک صوبے کے تحفظات سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔
آئی ایم ایف مشن کے ساتھ باضابطہ جائزہ مذاکرات بھی شروع ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کے لیے مطلوبہ قانونی ترامیم پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
