پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع کے سرکاری اداروں کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹس اور بڑے اداروں کا انتظامی کنٹرول ایڈیشنل چیف سیکرٹری / ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ضم اضلاع کے ڈائریکٹوریٹس اور بڑے سرکاری اداروں کے افسران اب متعلقہ محکموں کے سربراہان کے بجائے ایڈیشنل چیف سیکرٹری / ایڈمنسٹریٹر کو رپورٹ کریں گے۔ ان اداروں کی نگرانی، انتظامی معاملات اور اختیارات بھی نئے انتظامی نظام کے تحت ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوں گے۔
انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے ساتھ متعلقہ اداروں کے اختیارات، ذمہ داریاں، سرکاری ریکارڈ اور اثاثے بھی نئے نظام کا حصہ ہوں گے، جبکہ دفاتر، سازوسامان اور دیگر انتظامی وسائل کی منتقلی کے لیے متعلقہ محکموں سے مشاورت کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ انتظامی تبدیلی کے باوجود سرکاری ملازمین کی سروس حیثیت، سنیارٹی، پنشن اور دیگر قانونی مراعات متاثر نہیں ہوں گی۔ اداروں کے منظور شدہ عہدے اور بجٹ بھی برقرار رہیں گے، جبکہ ملازمین کے کیڈر یا مستقل تقرری کی حیثیت میں خودکار طور پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
افسران اور ملازمین کے تبادلوں کا اختیار چیف سیکرٹری کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ ضم اضلاع اور صوبائی حکومت کے درمیان تبادلے ایچ آر ایم ڈی کے ذریعے ہوں گے، جبکہ بین المحکمہ تبادلوں کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری / ایڈمنسٹریٹر کی سفارش اور چیف سیکرٹری کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
دوسری جانب اوقاف، آثار قدیمہ، کلچر اینڈ ٹورازم، ڈرگز کنٹرول، ہائر ایجوکیشن، انرجی اینڈ پاور، سول ڈیفنس، ریسکیو، اینٹی کرپشن اور لینڈ ریکارڈ سمیت 17 محکموں میں افسران تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان محکموں میں بی پی ایس 18 سے 20 تک کے افسران کو ایڈیشنل ڈپٹی سیکرٹریز کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
جیل خانہ جات میں ڈی آئی جی جیل بی پی ایس 19، ایکسائز میں ڈائریکٹر ساؤتھ بی پی ایس 19 جبکہ لوکل کونسل بورڈ میں ڈپٹی سیکرٹری بی پی ایس 18 کو ایڈیشنل ڈپٹی سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تعینات کیے گئے تمام افسران کو اپنے ماتحت عملے سمیت فوری طور پر اے ڈی ایس سیکشن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت نے نئے انتظامی نظام پر فوری عمل درآمد شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
