لندن (پاک ٹوڈے): دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے انکشاف کیا ہے کہ سائبر حملے کے نتیجے میں 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے متاثر ہوئے ہیں۔ اسے ممکنہ طور پر کرپٹو کرنسی کی تاریخ کا سب سے بڑا ہیک قرار دیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کے مطابق بائنانس نے جمعرات کو بتایا کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے، جبکہ کمپنی نے تمام نقصانات کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
کمپنی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک کیا گیا، جس کے ذریعے حملہ آوروں کو غیر مجاز طور پر ڈیجیٹل اثاثے منتقل کرنے کا موقع ملا۔
دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس سائبر حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ سے جوڑا ہے۔ یہ حملہ 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہونے کے سابقہ ریکارڈ سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔
