تحریر: آصف نثار غیاثی
گیارہ اکتوبر کو آخر کار خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا اگرچہ یہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی پہلی بار نہیں ہوا البتہ گورنر راج کے ساتھ ایمرجنسی پہلی بار نافذ کی گئی ہے۔
جہاں تک خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا تعلق ہے تو حیرت انگیز طور پر یہاں تینوں بار گورنر راج نافذ کرنے کا سہرا پیپلز پارٹی کے سر بندھتا ہے اسی طرح ملک میں گورنر راج کی ہیٹ ٹرک کا اعزاز بھی پیپلز پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت آصف علی زرداری کو حاصل ہے
پاکستان کی سیاسی و پارلیمانی تاریخ کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی ہے
قیام پاکستان کے چند روز بعد ہی اس وقت کے صوبہ سرحد یعنی موجودہ خیبرپختونخوا کی اکثریتی حکومت برطرف کرکے مسلم لیگ کی اقلیتی حکومت قائم کی گئی بعد ازاں پاکستان میں گورنر راج کی پہلی بڑی مثال 25 جنوری 1949ء کو مغربی پنجاب میں سامنے آئی۔ اس وقت نواب افتخار حسین خان ممدوٹ وزیراعلیٰ تھے۔ مسلم لیگ کے اندر اختلافات اور سابق وزیراعلیٰ ممتاز دولتانہ کے ساتھ سیاسی کشمکش کے دوران وزیراعظم لیاقت علی خان نے ممدوٹ حکومت کی اکثریت کے دعوے پر سوال اٹھایا۔
نتیجتاً صوبائی حکومت برطرف ہوئی اور صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جو اپریل 1951ء تک جاری رہا۔ یہ واقعہ اس امر کی ابتدائی مثال تھا کہ نئی ریاست میں منتخب صوبائی قیادت اور وفاقی اقتدار کے درمیان تعلقات کتنے پیچیدہ ہو سکتے تھے۔
دسمبر 1951ء میں سندھ کے وزیراعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کی حکومت بھی برطرف کر دی گئی۔ اس اقدام کے لیے بدعنوانی اور ناقص انتظامی کارکردگی کے الزامات پیش کیے گئے۔ گورنر میاں امین الدین نے صوبے کے انتظامی امور سنبھالے۔
یہ گورنر راج مئی 1953ء تک جاری رہا، جس کے بعد صوبائی انتخابی عمل کے نتیجے میں پیرزادہ عبدالستار کی حکومت قائم ہوئی۔
پاکستان کے قیام کے چند برسوں ہی میں صوبائی حکومتوں کی سیاسی بقا کا انحصار صرف صوبائی اسمبلی کے اندر حمایت پر نہیں رہا تھا بلکہ اس حوالے سے وفاقی قیادت کا کردار بھی فیصلہ کن بن گیا تھا۔
پھر ملک میں مارشل لاء لگا چار صوبے ختم کرکے ون یونٹ قائم کیا گیا جس کے خلاف احتجاج ہوتا رہا 1969 میں جنرل یحیٰی خان نے اقتدار سنبھالا تو ون یونٹ ختم کرکے چاروں صوبے بحال کر دیئے پہلے عام انتخابات ہوئے مگر اکثریتی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے ملک دولخت کر دیا گیا
بعد ازاں پاکستان میں جمہوری عمل بڑی مشکل سے بحال ہوا پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جے یوآئی کی مخلوط حکومتیں قائم ہوئیں مگر بھٹو کی سربراہی میں قائم وفاقی حکومت دونوں چھوٹے صوبوں میں قائم اپوزیشن جماعتوں کی حکومتیں برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھی اور محض چند ماہ بعد ہی
14 فروری 1973ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی صوبائی حکومت برطرف کر دی۔ سردار عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ تھے اور میر غوث بخش بزنجو گورنر کے منصب پر فائز تھے۔ ان دونوں کو عہدوں سے ہٹا کر نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر مقرر کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے بلوچستان میں بدامنی اور اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی برآمدگی سمیت دیگر معاملات کو اپنے اقدام کی وجوہات میں شامل کیا۔ اس کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں بھی ہوئیں۔ گورنر راج اپریل 1973ء کے اواخر میں ختم ہوا اور جام غلام قادر خان کی قیادت میں نئی صوبائی حکومت قائم ہوئی۔
اس واقعے کی سیاسی تشریح آج بھی اختلافی ہے۔ وفاقی نقطۂ نظر سے اسے سلامتی اور انتظامی بحران کے تناظر میں دیکھا گیا، جبکہ بلوچستان کی قوم پرست سیاست میں اسے صوبائی خودمختاری اور منتخب نمائندگی کے خلاف اقدام کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ جب وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی اعتماد ختم ہو جائے تو انتظامی اختیارات کی منتقلی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے تنازعے کو مزید پیچیدہ بھی کر سکتی ہے۔
1975ء میں اس وقت کے صوبہ سرحد، جسے آج خیبرپختونخوا کہا جاتا ہے، میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے اور سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور صوبائی حکومت کی قیادت کر رہے تھے۔
ایک بم دھماکہ میں سینئر صوبائی وزیر حیات محمد خان شیرپاؤ جاں بحق ہوئے تو انتظام 16 فروری 1975 کو گورنر راج لگا دیا گیا جو 3 مئی 1975ء تک جاری رہا، یعنی تقریباً 76 دن۔ اس عرصے میں صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کے ذریعے استعمال کیے گئے اور بعدازاں نصرت اللہ خان خٹک وزیراعلیٰ بنے۔
یہ واقعہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کا سوال موجودہ سیاسی کشمکش سے کئی دہائیاں پہلے بھی پیدا ہو چکا تھا۔
فروری 1994ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت نے صوبہ سرحد میں وزیراعلیٰ صابر شاہ کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کو ہٹا دیا۔ اس وقت صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات شدید تھے۔
25 فروری 1994ء سے 24 اپریل 1994ء تک صوبائی انتظامی اختیارات گورنر ریٹائرڈ میجر جنرل خورشید علی خان کے ذریعے استعمال کیے گئے۔ گورنر راج ختم ہونے کے بعد آفتاب احمد خان شیرپاؤ وزیراعلیٰ بنے۔
اس واقعے سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر وفاق اور صوبے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہوں تو اختلافات کا حل آئینی اور پارلیمانی طریقوں سے تلاش کیا جانا چاہیے یا غیر معمولی انتظامی اقدامات کے ذریعے؟یہ سوال آج بھی پاکستان کی وفاقی سیاست میں متعلقہ ہے۔
فروری 2009ء میں پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت آصف علی زرداری صدرِ پاکستان تھے اور شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد پنجاب کی سیاسی صورتِ حال میں بحران پیدا ہوا۔ وفاقی حکومت نے گورنر سلمان تاثیر کے ذریعے صوبائی انتظامی اختیارات سنبھالے۔ اس دوران صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں کی گئی، لیکن وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔
یہ اقدام تقریباً ایک ماہ بعد ختم ہوا، جس کے بعد پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت بحال ہو گئی۔
2009ء کا واقعہ اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس نے دکھایا کہ گورنر راج کے لیے لازماً صوبائی اسمبلی کی تحلیل ضروری نہیں؛ بعض صورتوں میں اسمبلی برقرار رہنے کے باوجود صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات معطل کیے جا سکتے ہیں۔
جنوری 2013ء میں بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف ہلاکت خیز بم دھماکوں کے بعد شدید عوامی احتجاج ہوا۔ علمدار روڈ پر متاثرین کی میتوں کے ساتھ دھرنا دیا گیا اور امن و امان کی صورتِ حال پر صوبائی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھا۔
وفاقی حکومت نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے دور میں نواب اسلم رئیسانی کی صوبائی حکومت برطرف کر کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی کے ذریعے انتظامی امور چلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ انتظام جنوری سے مارچ 2013ء تک جاری رہا۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں ان نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے جہاں گورنر راج کے حق میں بنیادی دلیل امن و امان کی سنگین صورتِ حال اور صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی سے متعلق خدشات تھے۔
تاہم یہاں بھی بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ کیا منتخب حکومت کی برطرفی سے امن و امان کا بحران حل ہو سکتا ہے، یا اس کے لیے پولیس، عدالتی نظام، انٹیلی جنس، سیاسی اتفاقِ رائے اور ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے زیادہ اہم ہیں؟
پاکستان میں گورنر راج کے قانونی تصور کو سمجھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 234 کا مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آرٹیکل 234 کا عنوان ہے: صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں اعلان جاری کرنے کا اختیار۔ اس کے تحت اگر صدرِ پاکستان کو آئینی طریقۂ کار کے مطابق اطمینان ہو کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی تو مخصوص شرائط کے تحت غیر معمولی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اہم نکات یہ ہیں:
* آئینی بنیاد: گورنر راج محض سیاسی اختلاف، احتجاج یا وفاقی حکومت کی ناراضی کا نام نہیں؛ آرٹیکل 234 میں آئینی نظام کی ناکامی سے متعلق شرط بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
* اختیارات کی منتقلی: صدر صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات اپنے پاس لے سکتا ہے یا گورنر کو اپنے نمائندے کے طور پر استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔
* اسمبلی کی حیثیت: آئین مخصوص شرائط کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کے ذریعے استعمال کرنے کا انتظام بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم ہر گورنر راج میں اسمبلی کی تحلیل یا معطلی لازمی نہیں۔
* پارلیمانی نگرانی: آرٹیکل 234 کے تحت اعلان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے اور دو ماہ کے اندر منظوری نہ ملنے پر اس کی مدت ختم ہو جاتی ہے۔ منظوری کے بعد بھی اس کی مدت میں توسیع کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں، اور مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
* عدلیہ کی حدود: آرٹیکل 234 کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات کو اپنے قبضے میں لینے یا اس سے متعلق آئینی تحفظات کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ایک اہم آئینی فرق بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آرٹیکل 232 ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی سے متعلق ہے۔ دونوں کی شرائط اور قانونی اثرات الگ ہیں، اگرچہ کسی بحران میں ان کا باہمی تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔
2010ء کی اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کے وفاقی نظام میں ایک اہم تبدیلی تھی۔ اس ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 234 کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی کی گئی۔ اس کے بعد صدر کے لیے صوبائی گورنر کی رپورٹ کو آئینی بنیاد کے طور پر سامنے رکھنا اہم ہو گیا، جبکہ اعلان کی پارلیمانی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں میں الگ الگ قراردادوں کی شرط شامل ہوئی۔
اس تبدیلی کی اہمیت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی معطلی جیسے غیر معمولی اقدام کو محض انتظامی حکم تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اس کے ساتھ پارلیمانی نگرانی کا تقاضا بھی وابستہ ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے۔ صوبائی اسمبلیوں اور حکومتوں کو آئینی اختیارات حاصل ہیں۔ لہٰذا وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کا حل تلاش کرتے وقت صوبائی خودمختاری اور وفاقی ذمہ داریوں، دونوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اب
11 اکتوبر 2026ء کو خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کے اختیارات معطل ہوئے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے امن و امان، بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور انسدادِ دہشت گردی میں صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق اعتراضات پیش کیے۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
اس پیش رفت کے بارے میں تین باتوں میں فرق رکھنا ضروری ہے وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی کارکردگی ناقص اور قابلِ گرفت چلی آ رہی تھی دوسری طرف پی ٹی آئی کا کہناہے کہ اس اقدام کا مقصد سیاسی دباؤ ڈالنا اور ہماری احتجاجی تحریک کو دبانا ہے تاہم یہاں آئینی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آرٹیکل 234 اور متعلقہ ہنگامی دفعات کے تقاضے پورے کیے گئے، اور کیا ان اقدامات کی پارلیمانی و عدالتی نگرانی مؤثر طور پر ہو گی؟
ان معاملات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ کسی فریق کا الزام بذاتِ خود ثابت شدہ حقیقت نہیں بنتا بلکہ اس کا جائزہ سرکاری حکم ناموں، آئینی بنیادوں، شواہد اور متعلقہ عدالتی کارروائی کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
یہ واقعہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں 1975ء اور 1994ء کے گورنر راج سے مختلف سیاسی اور آئینی حالات میں پیش آیا ہے۔ اس کا حتمی تاریخی اور قانونی جائزہ متعلقہ احکامات اور بعد کی عدالتی و پارلیمانی کارروائی کے مکمل ریکارڈ کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے مختلف صوبوں میں گورنر راج کے واقعات کا تقابلی جائزہ لینے سے چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔
اول، سیاسی اختلاف اور آئینی ناکامی ایک ہی چیز نہیں۔ وفاق اور صوبے میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں ہونا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ صوبائی آئینی نظام ناکام ہو چکا ہے۔
دوم، امن و امان کا بحران حقیقی مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا حل صرف حکومت کی تبدیلی نہیں۔ دہشت گردی یا بدامنی سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد، مؤثر حکمتِ عملی، مقامی آبادی کا اعتماد اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون بھی اہم ہیں۔
سوم، منتخب حکومت کی جواب دہی ضروری ہے۔ صوبائی حکومتیں بھی آئین، قانون اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ صوبائی خودمختاری کا مطلب انتظامی ناکامی یا قانون سے بالاتر ہونا نہیں۔
چہارم، غیر معمولی اختیارات کے ساتھ غیر معمولی احتساب بھی ضروری ہے۔ اگر وفاق کسی صوبے کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اسے اپنی آئینی وجوہات، انتظامی فیصلوں اور نتائج کی وضاحت بھی کرنی چاہیے۔
پنجم، جمہوری اختلافات کا مستقل حل سیاسی مکالمہ ہے۔ اسمبلیاں، پارلیمانی کمیٹیاں، عدالتیں اور وفاقی رابطے کے آئینی فورم ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعے بحران کو غیر ضروری تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ گورنر راج مختلف حالات میں نافذ کیا گیا کہیں صوبائی حکومت کی اکثریت پر سوال اٹھایا گیا، کہیں وفاق اور صوبے میں سیاسی تصادم پیدا ہوا، کہیں امن و امان کے بحران کو بنیاد بنایا گیا، اور کہیں انتظامی ناکامی کے الزامات سامنے آئے۔
لیکن ان تمام واقعات کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا درست نہیں۔ ہر دور کے حالات، آئینی دفعات، شواہد اور سیاسی پس منظر الگ تھے۔ اس کے باوجود ایک بنیادی اصول ہر دور میں اہم رہا ہےکہ وفاقی اختیار کا استعمال آئین کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ محض سیاسی پسند یا ناپسند کے تابع۔
کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ حکومت تبدیل ہو گئی، بلکہ یہ ہے کہ آیا آئینی شرائط پوری ہوئیں، بحران کم ہوا، شہریوں کے حقوق محفوظ رہے اور منتخب جمہوری نظام کی طرف واپسی ممکن ہوئی یا نہیں۔
پاکستان کے وفاقی مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی خودمختاری اور قومی سلامتی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کے درمیان آئینی توازن قائم رکھا جائے۔ یہی توازن جمہوریت، ریاستی استحکام اور عوامی اعتماد کی بنیاد بن سکتا ہے۔
